.

شام: حلب کی آزادی کا معرکہ جاری، ادلب پر روسی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن گروپوں نے حلب شہر کو آزاد کرانے کا معرکہ شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مذکورہ گروپوں کے ہاتھوں شہر کے مشرقی حصوں کا محاصرہ توڑ دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان علاقوں کا محاصرہ ختم ہونے کو بشار الاسد کی فوج کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔

ادھر شامی مذاکرات کی سپریم کمیٹی کے رکن محمد علوش نے باور کرایا ہے کہ حلب کا معرکہ ابھی ختم نہیں ہوا، شہر کو حکومتی عناصر اور اس کے حلیفوں سے کلیئر کرانے تک معرکہ جاری رہے گا۔

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق شامی اپوزیشن گروہوں نے حلب کے جنوب میں آرٹلری بریگیڈ کے علاوہ الراموسہ کے علاقے اور فضائی ٹیکنیکل اسکول پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ گروہ حلب کے مشرقی اور جنوب مغربی حصوں کے درمیان عسکری گزرگاہ کھولنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

دوسری جانب روس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمالی شہر ادلب میں مختلف ٹھکانوں پر فاسفورس بموں سے حملے کیے۔

مقامی کارکنان کے مطابق روس کے دو لڑاکا طیاروں نے بین الاقوامی طور پر ممنوع فاسفورس بموں کا استعمال کرتے ہوئے ادلب کو چار فضائی یلغاروں کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ شہری دفاع کے ارکان کی جانب سے آگ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔