شام میں موجود برطانوی اسپیشل فورسز کی تصاویر منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں موجود برطانیہ کی خصوصی فورسز کی تصاویر منظرعام پر آگئی ہیں اور بی بی سی نے پہلی مرتبہ ان تصاویر کو شائع کیا ہے۔

یہ تصاویر اس سال جون میں کھینچی گئی تھیں اور ان میں اسلحےسے لیس برطانوی فوجی اپنی الثلاب گاڑیوں کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔یہ فوجی گاڑیاں شامی باغیوں کے عراق کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے ال طنف میں ایک فوجی اڈے کے نزدیک نظر آرہی ہیں اور برطانوی فوجی داعش کے ایک ناکام فوجی حملے کے بعد اڈے کو محفوظ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمان نے شام میں برطانوی فوجی بھیجنے کی تجویز مسترد کردی تھی ۔البتہ اس نے 2015ء کے آخر میں شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی منظوری دی تھی۔پھر اس نے جنگ زدہ ملک میں برطانوی فوج کی کارروائی میں توسیع کی منظوری دی تھی۔

تاہم قدامت پسند برطانوی اخبار ڈیلی میل نے برطانیہ کے خصوصی دستوں کی شام میں موجودگی کو ''خفیہ زمینی جنگ'' کا حصہ قرار دیا ہے۔ڈیلی میل کے علاوہ ایک اور موقر برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا ہے کہ بیرون ملک برطانیہ کی خصوصی فورسز کی تعیناتی کے لیے پارلیمان کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔

شامی باغیوں نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ انھیں تربیت کی شکل میں برطانیہ کی جانب سے مدد حاصل ہورہی ہے لیکن انھوں نے برسرزمین کسی برطانوی فوجی کی موجودگی کے حوالےسے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

باغی گروپ جدید شامی فوج کےایک عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ''ہمیں اپنے برطانوی اور امریکی شراکت داروں کی جانب سے خصوصی فورسز کی تربیت دی جارہی ہے۔ ہمیں پینٹاگان کی جانب سے مکمل فضائی مدد کے علاوہ ہتھیار اور آلات بھی مہیا ہورہے ہیں''۔

بی بی سی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اس کو یہ خاص تصاویر کہاں سے حاصل ہوئی تھیں۔درایں اثناء گارڈین نے خبردار کیا ہے کہ خصوصی دستوں کو بڑے پیمانے پر کیمروں کے استعمال کی وجہ سے ان کی نجی زندگیوں کو خطرات اور چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں