ایران : 1988 کے رمضان میں ہزاروں افراد کی موت کا انکشاف !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران کے متوفی مرجع تقلید آیت اللہ منتظری کی ویب سائٹ پر 1988 کی ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جس میں انہوں نے اُس سال ایک ماہ میں اپوزیشن کے ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے پر احتجاج کا اظہار کیا ہے۔

منتظری نے جو اُس وقت "ولیِ فقیہہ" کے نائب کے منصب پر فائز تھے، ان پھانسیوں کو 1979ء میں ایرانی اسلامی جمہوریہ کی تاسیس کے بعد ریاست کا ارتکاب کردہ "بدترین جرم" قرار دیا۔

ویب سائٹ کے مطابق حکام کی جانب سے پھانسیوں پر عمل درامد کے بعد منتظری کو جب ان کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے ایرانی نظام کے بانی خمینی کو دو پیغامات بھی بھیجے تاکہ ان کارروائیوں کو روکا جائے تاہم یہ پیغامات بے فائدہ رہے۔

ان پھانسیوں میں جنہیں انتقامی کارروائی قرار دیا گیا تھا بعض اعداد و شمار کے مطابق 500 قیدیوں کو موت کی نیند سلایا گیا۔ تاہ مجاہدین خلق تنظیم سمجھتی ہے کہ سزائے موت 30 ہزار کے قریب افراد پر نافذ کی گئی جن میں اکثریت تنظیم کے ارکان کی تھی۔

منتظری نے 40 منٹ دورانیے کی ریکارڈنگ میں متعلقہ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " اس قبیح ترین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے نام تاریخ میں مجرموں کی فہرست میں درج ہوں گے"۔

منتظری کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں ایک شخص نے اپنی متعلقہ تنظیم سے لاتعلق ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم اس سے کہا گیا کہ " کیا تم تنظیم سے اپنی لاتعلقی کو سچا ثابت کرنے کے لیے بارودی سرنگوں پر چلنے کے لیے تیار ہو؟ جس پر اس شخص نے جواب دیا کہ کیا تمام لوگ ان سرنگوں پر چلنے کے لیے تیار ہیں ؟"

منتظری کا کہنا ہے کہ یہ جواب اس شخص کی سزائے موت کے فیصلے کا سبب بنا گیا۔

قابل ذکر بات یہ کہ منتظری نے آڈیو ریکارڈنگ میں تصدیق کی ہے کہ "سابق مرشدی اعلی خمینی کا بیٹا احمد خمینی سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر پھانسیوں کی اس مہم کی حمایت کرتا تھا۔ اس واقعے کے تین سے چار سال قبل احمد خمینی کہا کرتا تھا کہ جو کوئی بھی مجاہدین خلق کے اخبارات ، جریدے اور بیانات پڑھتا ہے اس کو پھانسی دے دینا چاہیے۔ یہ لوگ اس طریقے سے سوچا کرتے تھے"۔

منتظری نے یہ بھی باور کرایا کہ ان کا "مجاہدینِ خلق" سے کوئی تعلق نہیں رہا اور جن لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے وہ ان کے ماموں یا خالہ کے بیٹے نہیں ہیں۔

منتظری جنہوں نے شاہ ایران کے زمانے میں جیلوں میں طویل وقت گزارا، انہوں نے واضح کیا کہ "سیاست کھیلنے والی شخصیات کے برخلاف وہ جو کچھ جانے ہیں اسے سینے میں دفن نہیں کر سکتے"۔

1988 کی اس ریکارڈنگ میں منتظری نے اجلاس میں عدالتی اور سکیورٹی ذمہ داران سے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " تم لوگوں نے دو ماہ سے قیدیوں کے گھروالوں سے ملاقات اور ٹیلیفونک رابطوں کا سلسلہ روک دیا ہے جس سے اہل خانہ مشتعل ہیں۔ ان میں کسی کو چھ برس یا دس برس قید کی سزا دی گئی تھی اور آج تم لوگ اسے موت کے گھاٹ اتار رہے ہو جب کہ اس نے کوئی نئی کاررروائی نہیں کی۔ اس کا مطلب ہوا کہ ہمارا عدلیہ کا نظام مکمل طور پر غلطی پر ہے۔ بعض ججوں نے مجھ سے رابطہ بھی کیا کیوں کہ وہ اس صورت حال سے پریشان ہیں"۔

ڈیو ریکارڈنگ کے مطابق منتظری کا موقف تھا کہ وہ خواتین کو پھانسی دیے جانے کے خلاف ہیں۔ اگرچہ بعض خواتین قیدیوں نے اپنی لاتعلقی تحریر کیے جانے کی درخواست کی تھی تاکہ ان کو واپس جیل بھیج دیا جائے.. تاہم ان کی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔

منتظری نے اجلاس کے حاضرین سے کہا کہ " کیا خمینی صاحب اور ان کے ساتھ تم لوگ یہ سمجھ رہے ہو کہ ان کارروائیوں کے ذریعے نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے؟ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایک بھی بے قصور شخص کے قتل کا نتیجہ ہمارے انقلاب کی ہزیمت کی صورت میں آئے گا"۔

آيت اللہ حسین علی منتظری 1922 میں پیدا ہوئے اور دسمبر 2009 میں فوت ہوئے۔ ان کا شمار ایران کے نمایاں ترین شیعہ فقہاء میں کیا جاتا ہے۔ فقہ اور علوم دینیہ میں ان کی متعدد تالیفات ہیں۔ وہ "ولایت فقیہ" کے نظام کا نظریہ رکھنے والی اولین شخصیات میں سے ہیں۔ تاہم ولایت فقیہ کے بارے میں ان کا طرز فکر مختلف نوعیت کا تھا۔ انہوں نے 1979ء کے انقلاب کی کامیابی کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شاہ ایران کے زمانے میں ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا تھا تاہم جیل میں تین برس گزارنے کے بعد 1975 میں ان کو رہا کردیا گیا۔

ایرانی انقلاب کے بعد وہ ولی فقیہ کے نائب منتخب کرلیے گئے تھے تاہم 1988 میں ایران میں دی جانے والی پھانسیوں کی مخالفت کی وجہ سے انہیں علاحدہ کردیا گیا۔ 1999 میں انہیں قُم میں اپنی رہائش گاہ میں جبری طور پر نظربند کر دیا گیا۔ 2009 کے متنازعہ انتخابات میں منتظری نے اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی کو ووٹ دیا جو خود ابھی تک جبری نظربندی کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں