ایران : پہلی مرتبہ "آيفون" کی درآمد کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ حکومت پہلی مرتبہ مقامی کمپنیوں کو "آئیفون" درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی کمپنی "ایپل" کی مصنوعات کی اسمگلنگ پر روک لگانا ہے۔

نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق ایرانی وزارت تجارت نے آئیفون کی درآمد کے سلسلے میں ایرانی کمپنیوں کے لیے 9 اجازت نامے جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔

دارالحکومت تہران میں پہلے ہی "ایپل" کی مصنوعات کے لیے کئی غیر قانونی دکانیں موجود ہیں جہاں سے ایرانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس ماڈل کے فون کے جدید ترین ورژن خریدتی ہے۔

ایرانی حکومت طویل عرصے سے مغربی مصنوعات اور فون سیٹس کی اسمگلنگ سے چشم پوشی کر رہی تھی۔ تاہم حکام نے دو ماہ سے اسمگلنگ کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں آئیفون کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔

ایران نے پہلی مرتبہ موبائل فونز کو انسداد اسمگلنگ کا حصہ بنایا ہے۔ آئندہ ہفتوں میں نئے نظام کے نفاذ کے بعد صرف قانونی طور پر درآمد شدہ موبائل ہی کام کر سکیں گے۔

اجازت نامے جاری ہونے کی صورت میں بھی یہ امر جاننا رہ جائے گا کہ آیا ایرانی کمپنیاں آئیفون کی خریداری میں کامیاب ہو سکیں گی یا نہیں اس لیے کہ ایران پر عائد امریکی پابندیاں اس کو بین الاقوامی بینکاری نظام کے ساتھ لین دین کی اجازت نہیں دیتیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں