حرم کرین حادثہ: جواب کے لیے ملزمان کو ایک ماہ کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ برس حرم مکی میں کرین گرنے کے حادثے سے متعلق مقدمے کی پہلی سماعت میں 14 ملزمان کو جدہ شہر کے پینل کورٹ میں پیش کیا گیا۔ 11 ستمبر 2015 کو پیش آنے والے اس واقعے میں 110 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

بن لادن گروپ سے تعلق رکھنے والے ملزمان اس موقف پر قائم رہے کہ یہ حادثہ غیر متوقع اور انتہائی طاقت ور ہوا کے نتیجے میں پیش آیا جب کہ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

عدالت نے الزامات کا جواب دینے کے لیے ملزمان کو ایک ماہ کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت ایک ماہ بعد ہو گی۔

دوسری جانب سعودی روزنامے "عكاظ" کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی اور استغاثہ نے بیالیس ملزمان کے خلاف الزامات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح ملزمان کو چار الزامات کا سامنا ہے جن میں جانی نقصان کا سبب بننا ، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا، شہری دفاع کے نظام میں دیے گئے سلامتی کے نظام کی خلاف ورزی اور سلامتی سے متعلق اُن اصول اور قوانین کی خلاف ورزی جن پر تعمیراتی مقامات پر عمل پیرا ہونا لازم ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں