داعش کا بانی امریکا؟ حسن نصراللہ نے ٹرمپ کے دعوے کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے شعلہ بیان صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھیں بالآخر ان کے متعدد بلند بانگ دعووں میں سے ایک حمایت کرنے والا مل گیا ہے اور ن کے یہ حامی ہیں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے رہ نما شیخ حسن نصر اللہ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے روز ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو داعش کی پیدائش کا مورد الزام ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ صدر اوباما اس کے بانی ہیں اور ان کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اس کی شریک بانی ہیں۔تاہم انھوں نے بعد میں کہا کہ انھوں نے تو ان دونوں کا ٹھٹھا اڑانے کے لیے یہ بات کہی تھی۔

حسن نصر اللہ نے ہفتے کے روز لبنان کے جنوب میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی یوں ہاں میں ہاں ملائی ہے کہ ان کا یہ کہنا حقائق پر مبنی ہے۔ یعنی مستند ہے ٹرمپ جی کا فرمایا ہوا۔

حسن نصراللہ نے کہا:'' یہ ایک امریکی صدارتی امیدوار ہیں جنھوں نے یہ بات کہی ہے۔انھوں نے جو کچھ کہا ہے،وہ حقائق اور دستاویزات پر مبنی ہے''۔

حزب اللہ کے رہ نما ماضی میں بھی یہ دعوے کرتے رہے ہیں کہ امریکا نے اسلامی انتہا پسندوں کے پھلنے پھولنے میں مدد دی تھی تاکہ مشرق وسطیٰ کے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا جاسکے۔

دوسری جانب ان کی ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو خود عراق اور شام میں لڑرہے ہیں اور یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔اس وقت اس تنظیم کے ہزاروں جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں سرکاری فوج کے شانہ بشانہ سنی باغیوں ،داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ کے خلاف لڑرہے ہیں۔

تاہم اس نے عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنے جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے بیسیوں جنگجو اس وقت شمالی عراق میں شیعہ ملیشیاؤں اور عراقی فوج کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف لڑرہے ہیں اور گذشتہ مہینوں کے دوران اس کے متعدد کمانڈروں کی داعش کے خلاف لڑائی میں ہلاکتوں کی اطلاعات بھی منظرعام پر آ چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں