سعودیوں نے زواجِ "ركاض" کو عورت کا استحصال قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ کی شخصیات کی جانب سے "زواج رکاض" کے خلاف شروع کی جانے والی آگاہی مہم کو سوشل میڈیا پر سعودی کارکنان کی جانب سے بھرپور توجہ حاصل ہوئی ہے۔ شادی کی اس قسم کا رجحان موسم گرما کی تعطیلات میں بڑھ جاتا ہے۔ ٹوئیٹر پر سعودی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی شادی میں عورت کا بطور انسان استحصال پایا جاتا ہے اور یہ شادی کے عالی قدر مفہوم کے بھی منافی ہے جس کے ذریعے معاشرے کی تعمیر، نسلوں کی تربیت اور ایک خودمختار گھرانے کا قیام عمل میں آتا ہے۔

"زواج رکاض" کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ اس شخص سے منسوب ہے جو ملک بھر میں دوڑتا پھرتا ہے اور ہر شہر میں ایک یا دو ماہ قیام کرنے کے بعد کوچ کرجاتا ہے۔ وہ گناہ میں پڑجانے کے اندیشے سے اس شہر یا مقام پر قیام تک کے عرصے کے لیے شادی کرتا ہے اور جب وہاں سے کوچ کرتا ہے تو بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔

اس شادی کا رواج بہت زیادہ سفر کرنے والے افراد میں پھیل رہا ہے۔ اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر اس شادی کے نتیجے میں اولاد کی پیدائش ہوجاتی ہے تو بیوی کے لیے اس حوالے سے کوئی حقوق نہیں ہیں جس طرح عام شادی میں حقوق حاصل ہوتے ہیں۔

ٹوئیٹر پر تبصرہ کرنے والوں کے نزدیک شادی کی یہ قسم درحقیقت شہوانی مقاصد کی بنیاد پر قائم ہے جو عورت اور معاشرے کے سہل ترین حقوق کی خلاف ورزی کی شکل ہے۔ تبصرہ کرنے والوں کے مطابق نوجوانوں کو خاص طور پر اس نوعیت کی شادی سے خبردار کیا جانا چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ شادی کو سماجی بنیادوں پر مبنی ہونا چاہیے جس کے ذریعے شادی کے مفہوم کو یقینی بنایا جا سکے۔

شرعی امور کے محقق ڈاکٹر احمد بن قاسم الغامدی کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی شادی میں دھوکہ اور فریب ہے ، اس کا مرتکب گناہ گار ہے اور اس نوعیت کی شادی میں شریک فریق اکثر غفلت اور تساہل پسندی کا شکار ہوتے ہیں۔

اس شادی کے اہم ترین مقاصد میں مردوں کو جنسی لذت سے اور خواتین اور ان کے گھر والوں کو مردوں سے ملنے والے مال سے سروکار ہوتا ہے۔ اس سے بہت سے سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں جو آگے چل کر بڑے المیے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ چند برسوں میں مختلف ناموں سے شادیوں کا مظہر سامنے آیا ہے جن میں سول میرج ، مسفار ، سیاحتی ، موسم گرما کی شادی شامل ہیں۔ یہ تمام شادیاں طلاق کی بنیاد رکھتی ہیں۔ آگاہی کی قلت اور بعض لوگوں کی آسودہ حالی نے اس نوعیت کی شادیوں کے رجحانات کو بڑھایا ہے۔ موسم گرما میں ان شادیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے جب سعودی باشندے بڑی تعداد میں بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔ تاہم یہ تمام شادیاں سعودی عرب میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی ہیں جن کے سبب سماجی اور قانونی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں