.

شام : منبج شہر داعش سے آزاد.. 2000 یرغمال شہری بازیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز یونین کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ یونین نے ترکی کی سرحد کے نزدیک شام کے شمالی شہر منبج سے داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے آخری گروپ کے کوچ کرجانے کے بعد ، شہر پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی حلیف منبج عسکری کونسل کے ترجمان شرفان درویش کے مطابق ڈیموکریٹک فورسز اس وقت شہر میں گشت کر رہی ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال 2000 سے زیادہ شہریوں کو آزاد کرا لیا گیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ شہر اس وقت مکمل طور پر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول ہے۔

مئی کے اواخر میں شروع ہونے والے ڈیموکریٹک فورسز کے حملے کا مقصد دہشت گرد تنظیم داعش کو ترکی کی سرحد پر اُن شامی علاقوں سے نکالنا ہے جہاں تنظیم کا قبضہ ہے۔

امریکی اسپیشل فورسز کا کردار

دو سال قبل داعش کے خلاف امریکا کی فوجی مہم کے آغاز کے بعد سے منبج کا آپریشن شام میں واشنگٹن کی حلیف جماعت کے لیے سب سے زیادہ کامیابیاں سمیٹنے والا آپریشن ثابت ہوا ہے۔ اس آپریشن میں امریکی اسپیشل فورسز نے زمینی طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔

منبج کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر اس شہر کا داعش کے ہاتھ سے نکل جانا تنظیم کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔ یہ شہر ترکی کی سرحد سے غیرملکی جنگجوؤں اور امدادات کی آمدورفت کے لیے بطور راستہ استعمال ہو رہا تھا۔

درویش نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ داعش کے تقریبا 100 جنگجو ابھی تک شہر کے بیچ موجود ہیں اور وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد شہری فرار کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیے گئے۔

داعشیوں کو لے کر 500 گاڑیاں جرابلس کی جانب فرار

بعد ازاں کرد ذرائع اور انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ نے بتایا کہ تقریبا 500 گاڑیاں منبج شہر سے روانہ ہوئیں جن میں داعش کے ارکان اور شہری سوار تھے۔ رصدگاہ کے مطابق ان لوگوں نے ملک کے شمال مشرق میں ترکی کی سرحد پر جرابلس قصبے کا رخ کیا جس پر داعش تنظیم کا قبضہ ہے۔ قافلے میں غالبا داعش تنظیم کے وہ آخری ارکان بھی شامل تھے جنہوں نے متحارب فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت شہر سے کوچ کیا۔ اس معاہدے کا سرکاری طور پر اعلان عمل میں نہیں آیا۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے حملے کے نتیجے میں منبج شہر کے نواحی علاقوں پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر لیا گیا تھا تاہم ڈیموکریٹک فورسز کے مطابق منبج شہر کے اندر وسیع پیمانے پر حملے سے گریز کیا گیا تاکہ شہریوں کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

شہر کی آبادی اور مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے فضائی حملوں میں منبج سے تعلق رکھنے والے درجنوں شہری جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں جاں بحق ہو گئے تھے۔ خیال ہے کہ یہ حملے امریکا کے زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کے طیاروں نے کیے تھے۔

ادھر امریکی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ منبج آپریشن کے اختتام کے فوری بعد حالات داعش تنظیم کے گڑھ الرقہ کی جانب حرکت کے لیے سازگار ہوجائیں گے جہاں پر گھمسان کی لڑائی کی توقع کی جارہی ہے۔