بغداد میں آتش گیر مادہ پھینک کرمعصوم بچوں کو جلایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ بغداد کے یرموک اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی اور ممکنہ طور پر آتش گیر مادہ پھینکا گیا تھا جس سے تیرہ نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔

وزارت صحت کے ترجمان احمد الرودینی نے قبل ازیں بدھ کے روز یہ کہا تھا کہ منگل کی نصف شب یرموک اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ میں بجلی کے نظام میں خرابی کے سبب آگ لگی تھی۔اب ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے آتش گیر مواد کا جائے وقوعہ پر موجودگی کا پتا چلا ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مرنے والے بچوں کی تعداد بارہ سے بڑھ کر تیرہ ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ بغداد کے بیشتر سرکاری اسپتالوں میں علاج ومعالجے کی معیاری سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔اسپتالوں کی حالت زار انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔اس وجہ سے عراقیوں کی بڑی تعداد علاج کے لیے نجی اسپتالوں کا رُخ کرتی ہے یا بیرون ملک جاتی ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران میں حفظان صحت کی غیر معیاری سہولتوں،بجلی اورپانی سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی کے خلاف عراقی شہریوں نے بغداد اور دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور حکومت سے سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا مگر ان کا یہ احتجاج صدابہ صحرا ثابت ہوا ہے اور سرکاری محکموں کی حالت زار میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں