.

حلب میں شامی فوج کا نیا قتل عام، 50 عام شہری ہلاک

2012ء کے بعد سے شہر میں شدید ترین لڑائی جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والے گروپ نے بتایا ہے کہ بشار الاسد نواز فوج کے توپخانے اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب میں قتل و غارت گری کا نیا بازار سجاتے ہوئے پچاس عام شہریوں کی جان لے لی۔

مانیٹرنگ گروپ کے مطابق مارے جانے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افراد شامی اپوزیشن کے زیر نگین علاقے حلب پر روسی لڑاکا طیاروں اور شامی توپخانے کی گولہ باری کا نشانہ بنے۔ اپوزیشن نے جوابی کرتے ہوئے حلب کے مغرب میں ان علاقوں پر شدید راکٹ باری کی جہاں پر بشار الاسد فوج کا کںڑول تھا۔

حلب اور اردگرد کا علاقہ گزشتہ دو ہفتوں سے دونوں فریقوں کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سنہ دو ہزار بارہ کے بعد سے علاقے میں ہونے والی حالیہ لڑائی شدید ترین جھڑپیں ہیں جس کی وجہ سے حلب کے مشرقی علاقے شامی اپوزیشن کے کنڑول میں ہیں جبکہ مغربی کالونیوں پر سرکاری فوج کا کنڑول ہے۔