.

ایران میں بچوں کی خودکشی کے بڑھتے رجحان کی وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بچوں کے حقوق کے ایرانی ماہر كيانوش ہادی شريعتی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بچوں کی خودکشی کا رجحان باعث تشویش بن کر "انتباہی" حد تک پہنچ چکا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی اِلنا کے ساتھ انٹرویو میں شریعتی نے بتایا کہ تشدد، دباؤ، تعلیم میں جبر، زبردستی شادی، اعلانیہ پھانسیوں کے مناظر، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم.. ایران میں بچوں میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی تعداد کی حقیقی وجوہات ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بچوں میں خودکشی کے حوالے سے سب سے زیادہ اثر انداز عامل وہ اعلانیہ پھانسیاں ہیں جن پر ملک کے نظام کی جانب سے سڑکوں پر عمل درامد کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں بالخصوص صدر حسن روحانی کے دور میں اعلانیہ اور غیراعلانیہ پھانسیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں آخری کارروائی درجنوں سنی کرد کارکنان کے خلاف عمل میں لائی گئی۔ علاوہ ازیں ایران ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بچوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بعد ان کے خلاف سخت فیصلے سنائے جاتے ہیں جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی تنظیموں کی جانب سے اس امر کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نے پارلیمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بتایا کہ پارلیمنٹ بچوں اور کم سن افراد کے تحفظ کے منصوبے کی منظوری پر اعتراض کرتی ہے جب کہ وزارت تعلیم اسکولوں میں سماجی ماہرین اور مشاورت سے متعلق ماہرین کو داخل نہیں ہونے دیتی۔

ادھر ایران کی وزارت تعلیم میں سماجی دیکھ بھال کے شعبے کے ڈائریکٹر نادر منصور کیانی نے بتایا کہ منشیات کی لت اور خودکشی ایران میں بچوں کے درمیان پھیلے ہوئے معروف مظہر ہیں۔