.

اردن :انتہا پسند یہود کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے سخت گیر یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر اسرائیل کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ''مذہبی جنگ'' چھڑ سکتی ہے۔

اردن اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ کے انتظام وانصرام کا ذمے دار (متولی) ہے اور وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ مسلمانوں کے اس تیسرے مقدس مقام کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرچکا ہے۔

اردن کے اسلامی امور اور اوقاف کے وزیر وائل عربیات نے ''صہیونی انتہا پسندوں '' کو مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں مذہبی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اردنی وزیر نے اسرائیلی پولیس کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں مسلم عبادت گزاروں کو گرفتار کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی اسرائیل اور انتہا پسند گروپوں کی مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کارروائیوں ، بار بار کی خلاف ورزیوں اور غلط کاریوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اردن کے ایک نیم سرکاری اخبار عدستور سے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم الاقصیٰ کے حوالے سے اپنی مذہبی اور تاریخی ذمے داریوں کو پورا کریں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے متولی کی حیثیت سے میں ان جگہوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا اور ان کے تقدس کو پامال کرنے والی ہر قسم کی خلاف ورزیوں کے سامنے اٹھ کھڑا ہوں گا''۔

اردن کے زیراہتمام وقف اور یہودی کارکنان کے مطابق چار سو سے زیادہ یہود اتوار کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔یہود تيشـْعاه بئاف (التاسع من آب) کا تیوہار اس جگہ پر دو قدیم معابد ہیکل اول اور ہیکل دوم کی بابلیوں اور رومنوں کے ہاتھوں تباہی کی یاد میں مناتے ہیں۔اس کا آغاز ہفتے کی شب ہوا تھا اور انتہا پسند یہودیوں نے اپنے ہم مذہبوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے اور وہاں عبادت کرنے کی ترغیب دی تھی۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق سات یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انتہا پسند یہود کو قانونی امداد مہیا کرنے والے ایک وکالتی گروپ ہونینو کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین کو دعائیہ کلمات پڑھنے اور ایک کو اپنی قمیص پھاڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ میں یہودیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں پندرہ فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔فلسطینی اتھارٹی نے اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور عرب لیگ سے مسجد اقصیٰ میں یہود کی دراندازیوں کو رکوانے کے لیے مداخلت کی اپیل کی تھی۔

مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول اور تیسرے مقدس مقام مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہود کو ویسے تو مخصوص اوقات میں آنے کی اجازت ہے لیکن انھیں وہاں عبادت کی اجازت نہیں ہے اور وہ جب وہاں عبادت کی کوشش کرتے ہیں تو مسلمان مداخلت کرکے انھیں ایسا کرنے سے روک دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہود مسجد اقصیٰ کو ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مقدس قرار دیتے ہیں۔یہیں ان کی مشہور دیوار گریہ واقع ہے جس کے نیچے وہ عبادت کرتے ہیں۔اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔