عراق: پارلیمان میں پانچ نئے وزراء کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کی پارلیمان نے سوموار کے روز کئی ماہ کی تاخیر کے بعد کابینہ میں شامل کیے گئے پانچ نئے وزراء کی منظوری دے دی ہے۔

پارلیمان کی ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی کارروائی کے مطابق ارکان پارلیمان نے وزیراعظم حیدر العبادی کے نامزد کردہ تیل ،ٹرانسپورٹ ،اعلیٰ تعلیم ،تعمیرات اور مکانات اور آبی وسائل کے وزراء کی منظوری دی ہے جبکہ انھوں نے نامزد وزیر تجارت کو مسترد کردیا ہے۔

اس کے بعد نئے وزراء نے پارلیمان کے سامنے حلف اٹھایا۔ان میں سے چار وزراء وہی ہیں جن کی ارکان پارلیمان نے اس سال کے اوائل میں منظوری دی تھی لیکن عدالت نےبعض ارکان کی درخواست پر پارلیمان کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

وزیراعظم حیدرالعبادی نے سوموار کے روز اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ ''اصلاحات کے لیے ہماری مہم جاری ہے۔نئے ٹیکنو کریٹ وزراء کا تقرر ایک نیا قدم ہے''۔

انھوں نے فروری میں ٹیکنو کریٹس وزراء پر مشتمل کابینہ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن انھیں طاقتور سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ وہ وزارتوں کے سرپرست بنے ہوئے ہیں اور یہ وزارتیں ان کے مال کمانے کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔سیاسی لیڈروں کی مداخلت اور اقربا نوازی کی وجہ سے عراقی محکموں میں بدعنوانیوں کا دور دورہ ہے۔

واضح رہے کہ عراقی وزیراعظم نے چند روز قبل ہی تیل ،ٹرانسپورٹ ،مکانات وتعمیرات ، آبی وسائل اور صنعتوں کے وزراء کے استعفے قبول کر لیے تھے۔وہ مختصر مدت کے بعد اپنی وزارتوں سے دستبردار ہوگئے تھے۔

عراق کی روایتی سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ غیر جانبدار ٹینکو کریٹس کی کابینہ میں شمولیت سے ان کا قد کاٹھ اور سیاسی سرپرستی کا نیٹ ورک کمزور پڑ جائے گا کیونکہ وہ اسی کی بدولت گذشتہ ایک عشرے سے دولت کما رہے ہیں اور اپنا سیاسی اثرورسوخ اور بالادستی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

عراق کے طاقتور شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر وزیراعظم پر اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے اس سال کے دوران بغداد میں دو بڑی احتجاجی ریلیاں منعقد کرچکے ہیں۔انھوں نے حیدرالعبادی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں سے وابستگی نہ رکھنے والی شخصیات کو کابینہ میں شامل کریں اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کریں۔ان کے حامیوں نے اپنے یہ مطالبات منوانے کے لیے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کے باہر کئی روز تک دھرنا دیا تھا جس سے پورے شہر میں کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں