.

اردن نے سرحدی علاقے میں شامی مہاجرین تک رسائی مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے شام کے ساتھ سرحدی علاقے میں قائم مہاجر کیمپ تک رسائی دینے کے مطالبات مسترد کردیے ہیں۔

اردن نے جون میں شام کی سرحد کے ساتھ واقع رکبان گذرگاہ کے علاقے کو ایک خودکش بم دھماکے کے بعد ''بند فوجی علاقہ'' قرار دے دیا تھا۔داعش نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس میں سات فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے نواح میں صحرائی علاقے میں قریباً ایک لاکھ شامی مہاجرین ایک کیمپ میں رہ رہے ہیں۔عالمی امدادی ایجنسیوں کو ان تک امداد پہنچانے کی اجازت نہیں ہے۔

اردنی شاہ نے کہا ہے کہ سرحدی علاقے میں پھنسے ہوئے ان شامی مہاجرین میں انتہاپسند عناصر بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ان میں سے بڑی تعداد داعش کے کنٹرول والے علاقوں سے گھر بار چھوڑ کر آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''تمام مشکلات کے باوجود اردن مہاجرین کی امداد کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے لیکن کسی بھی صورت میں یہ امدادی کام اردنی عوام کی زندگیوں اور سلامتی کی قیمت پر نہیں کیا جائے گا''۔

امدادی ایجنسیاں اردن کی حکومت سے شامی مہاجرین کے اس کیمپ تک رسائی دینے کی اپیلیں کرچکی ہیں۔اسی ماہ کے اوائل میں اردن نے اقوام متحدہ کی اپیل پر اس کیمپ کے مکینوں کو ضروری خوراک اور سامان پہنچانے کی اجازت دی تھی۔

شاہ عبداللہ دوم نے سوموار کو شائع ہونے والے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ اردن کی قومی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ہم کسی کو بھی خود پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اردن ان شامیوں کو کسی بھی ایسے ملک میں منتقل کرنے کو تیار ہیں جو انھیں قبول کرنے پر آمادہ ہو۔

اردن میں میں اس وقت قریباً چودہ لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔ان میں قریباً چھے لاکھ 30 ہزار اقوام متحدہ کے پاس رجسٹر ہیں۔شاہ عبداللہ نے بتایا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے ان شامی مہاجرین کی میزبانی کی لاگت کا صرف 35 فی صد مہیا کیا جارہا ہے اور باقی اردن خود سے برداشت کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔

شاہ اردن کا کہنا تھا کہ ''قومی بجٹ کا چوتھا حصہ شامی مہاجرین کے اخراجات پورا کرنے پر اٹھ جاتا ہے۔اردن مہاجرین کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔تاہم ہم اپنی آخری حد کو پہنچ گئے ہیں ۔یہ ایک بین الاقوامی بحران اور بین الاقوامی ذمے داری ہے اور دنیا کو اس سلسلے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے''۔