"شيطان بزرگ" کے عسکری ماہرین تہران میں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مختلف ایرانی ذرائع کے مطابق کچھ روز پہلے 9 ارکان پر مشتمل ایک امریکی وفد ایرانی دارالحکومت تہران کے دورے پر پہنچا ہے۔ وفد کے دورے کا مقصد ایران کو بوئنگ کمپنی کے مسافر طیاروں کی فروخت کی ڈیل ختم کرنے کے لیے نیم خفیہ مذاکرات کرنا ہے۔ تاہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ وفد کے دو ارکان عسکری ماہرین ہیں۔ اس بات کی تصدیق ایرانی پاسداران انقلاب اور سکیورٹی اداروں کے قریب ذرائع ابلاغ نے بھی کی ہے۔

ایرانی سکیورٹی اداروں کے نزدیک ویب سائٹ "نسيم اون لائن" کے مطابق دو ارکان کے عسکری پس منظر رکھنے کے پیش نظر وفد کے حقیقی ارادوں کے حوالے سے شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

وفد میں اقتصادی اورقانونی ماہرین کے علاوہ بوئنگ کمپنی کے ذمہ داران اور دو عسکری ماہرین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ 100 مسافر طیاروں کی فروخت کی ڈیل کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

وفد کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنے مختلف خطابوں میں امریکا کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ خامنہ ای نے اعلانیہ طور پر واشنگٹن کے ساتھ سیاسی ، اقتصادی یہاں تک کہ سائنسی شعبے میں بھی تعلقات کو معمول کے مطابق بنانے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ وہ ایرانی نظام کے دھڑوں میں جتھہ بندی پھیلا رہا ہے۔

واضح رہے کہ تہران نے امریکا سمیت چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے نیوکلیئر مذاکرات خامنہ ای کے ذاتی ایماء پر کیے تھے اور معاہدے پر دستخط بھی ان کی رضامندی سے کیے گئے۔ ایران سے متعلق ماہرین کے نزدیک مرشد اعلی کی اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ کوئی امریکی وفد تہران کا دورہ کرے۔

پاسداران انقلاب کے قریب ویب سائٹ نے ڈیل کے خاتمے کے لیے جانبین کے درمیان ملاقات کو ایک بدیہی امر شمار کیا ہے.. تاہم وفد کے دو ارکان کا عسکری پس منظر درحقیقت "باعث تشویش" ہے بالخصوص جب کہ یہ دورہ میڈیا اور سرکاری و غیر سرکاری پریس سے دور رہ کر کیا جا رہا ہے۔

یہاں پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تہران کو امریکی وفد میں دو عسکری اہل کاروں "Donald Galvanin" اور"Raymond Wolber" کی موجودگی کا علم نہیں تھا؟ اس امر نے سکیورٹی اداروں کے قریب شمار کیے جانے والے ذرائع ابلاغ کی حیرانی کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بات قبول کرنا انتہائی دشوار ہے کہ پاسداران انقلاب اور سکیورٹی ادارے وفد کے تہران پہنچنے سے قبل عسکری مشیران سے لاعلم تھے۔ بصورت دیگر ایران میں سکیورٹی اور انٹیلجنس اداروں کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات پیدا ہونے چاہیں۔

بعض ماہرین کے نزدیک مرشد اعلی اور پاسداران انقلاب کے قریبی بنیاد پرست عناصر صدر حسن روحانی کے ساتھ اپنے تنازع میں، اس امر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

"نسیم اون لائن" ویب سائٹ کے مطابق وفد میں شامل "ڈونلڈ گیلوینن" 1974ء سے 2001ء تک امریکی فوج میں عسکری مشیر رہے۔ اس کے علاوہ وہ مشرق وسطی میں موجود امریکی میرینز کے افسر بھی رہے۔ جہاں تک "ریمنڈ والبر" کا تعلق ہے تو ایرانی سکیورٹی ویب سائٹ کے مطابق وہ امریکی بحریہ میں ایک نیوکلیئر آبدوز کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

مذکورہ ویب سائٹ نے بین الاقوامی مذاکرات کے امور کے ایک ماہر کے حوالے سے بتایا ہے کہ " وفد میں قانونی اور سیاسی امور سے متعلق ارکان ڈیل کی قیمت کو واشنگٹن منتقل کرنے کا کوئی راستہ نکالیں گے اس لیے کہ تہران کے خلاف امریکی پابندیاں ابھی تک لاگو ہیں۔ جہاں تک عسکری ماہرین کا تعلق ہے تو وہ اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ تہران طیاروں کے ساتھ آنے والی ٹکنالوجی کو "ریورس انجینئرنگ" کے ذریعے استعمال میں نہ لائے۔

تاہم ویب سائٹ نے ایرانی نظام کے مرشد اعلی علی خامنہ ای کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے بھی تعلقات قائم کرنے کی مخالفت کا ذکر نہیں کیا جن کی آمادگی کے بغیر "شیطان بزرگ" کے وفد کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں.. وہ وفد جس میں امریکی عسکری مشیر شامل ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں