.

کرد 'البیشمرکہ' فورسز نے موصل کے نواح میں قدم جما لئے

امریکی اتحاد کی فضائی سپورٹ کے ساتھ داعش کا گھیرائو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی کردوں کی ملیشیا "البیشمرکہ" کے ایک یونٹ نے عراقی شہر موصل کے مشرق میں داعش کے ہاتھوں سے آزاد کروائے جانے والے نواحی دیہات مِیں سے ایک گائوں قرقش کے گھروں میں مورچے سنبھال لئے ہیں۔

البیشمرکہ فورسز کی جانب سے اس پیشقدمی کا مقصد ہے کہ موصل کو داعش سے آزاد کروانے کے آخری معرکے کی تیاری کی جاسکے۔ یاد رہے کہ دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' پچھلے دو سالوں سے عراقی شہر موصل پر قابض ہے۔

اس ہفتے کے دوران داعش سے واگزار کروائے جانے والے تمام دیہات کی طرح قرقش بھی ایک چھوٹا سا گائوں ہے اور اس میں شہریوں کی انتہائی قلیل تعداد موجود ہے۔ شہریوں کی انتہائی کم تعداد میں موجودگی کی وجہ سے امریکی اتحاد نے فضائی حملوں کی مدد سے تیزی کے ساتھ علاقے کو خالی کروالیا اور گلی گلی معرکے کی صورتحال سے جلدی معاملات حل کر لئے۔ مگر اس کے باوجود بیشمرکہ فورسز کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان دیہات کا قبضہ حاصل کرنے کے دوران ان کی فورسز کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

صرف قرقش گائوں ہی میں بیشمرکہ کے اندازوں کے مطابق انہوں نے 10 جنگجوئوں کو کھو دیا ہے۔ پیر کے روز آپریشن کی تکمیل کے اعلان کے بعد بھی کسی کسی جگہ لڑائی مسلسل جاری ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق 48 گھنٹوں پر محیط اس آپریشن جیسے کئی اور آپریشنز کا سہارا لے کر عراق میں داعش کے آخری گڑھ موصل کو گھیرے میں لے لیا جائے گا۔