.

حوثیوں کے لیے بھیجے گئے ایرانی اسلحے کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی اراضی پر ایرانی ساخت کے دو "زلزلہ 3" میزائل داغے جانے کے بعد..حوثیوں کے لیے ایرانی اسلحے کی کھیپوں سے متعلق نئی تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے۔ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی " اِرنا" نے اس حملے کے بارے میں پیر کے روز اعلان کیا تھا۔

"ارنا" نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیاؤں نے نجران کے عسکری کیمپ کو زلزلہ 3 ماڈل کے دو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ یہ بین الاقوامی منشورات اور معاہدں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ یہ میزائل درست طور پر نشانے پر گرے اور سعودی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسری جانب ایران کے اصلاح پسند اخبار "شرق" کے مطابق یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ حوثی ملیشیاؤں اور ان کے حلیفوں کی جانب سے زلزلہ 3 میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دو نیوز ایجنسیوں تسنیم اور مہر نے گزشتہ ماہ نجران کے اڈے کے خلاف حوثیوں کی جانب سے زلزلہ 3 بیلسٹک میزائل استعمال کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔

زلزلہ 3 میزائل کیا ہے ؟

زلزلہ 3 میزائل ٹھوس ایندھن کے ذریعے کام کرتا ہے اور اس کی پہنچ 200 کلومیٹرہے۔ اس کے علاوہ ایک اور قسم ہے جس کو "زلزلہ 3-B" کا نام دیا گیا ہے۔ چھوٹے وار ہیڈ کے حامل اس میزائل کی پہنچ 250 کلومیٹر تک ہے۔

ان میزائلوں کی شکل اور زاویے تقریبا زلزلہ سیریز کے پرانے میزائلوں سے ہی مطابقت رکھتی ہے تاہم وار ہیڈ کی شکل مخروطی ہے جو زلزلہ 1 اور زلزلہ 2 میں گنبد کی شکل کی ہوتی تھی۔

حوثیوں کا وفد تہران میں

یمن سے سعودی عرب کی جانب ایرانی زلزلہ 3 میزائل کے داغے جانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ حوثیوں کا ایک وفد تہران کا دورہ کر رہا ہے۔ اتوار کے روز وفد کا استقبال ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر برائے بین الاقوامی امور حسين امير عبد اللہيان نے کیا۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں کے مطابق حوثیوں کے وفد نے ایرانی جانب کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ تعاون اور تمام سطحوں پر تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہونے کا اظہار کیا۔

اس موقع پر عبداللہیان نے اپنے حوثی حلیفوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "یمنی پارلیمنٹ کے اجلاس کا انعقاد ملک میں سیاسی قیادت کے گہرے فہم کو باور کراتا ہے"۔ انہوں نے حوثیوں کے زیر قبضہ پارلیمنٹ کو "جمہوریت کی آئینہ" قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران یمن کے ساتھ پارلیمانی تعاون کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمنی پارلیمنٹ کے اجلاس کے انعقاد کو "ایک دانش مندانہ اقدام" قرار دیا۔ اس امر کو یمن کی آئینی حکومت نے یمن کے داخلی امور میں ایران کی کھلی مداخلت شمار کیا ہے۔

حوثیوں کے لیے ایرانی اسلحے کی کھیپوں کی تفصیل

حوثیوں کے لیے ایران کی سپورٹ صرف بیلسٹک میزائل کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ عرب اتحاد اور بین الاقوامی فورسز نے "عزم کی آندھی" آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک سال کے اندر بھاری اور ہلکے ہتھیاروں ، گولہ بارود اور گرینیڈز کی کھیپوں کے علاوہ دیگر نوعیت کے ہتھیاروں کو ضبط کیا۔ ان میں اہم ترین درج ذیل ہیں :

* 12 جولائی کو عدن کے گورنر نے پانی میں شکار کے لیے استعمال ہونے والی ایک کشتی کو پکڑا جو افریقی ساحلوں کے مقابل بین الاقوامی پانی کی جانب رواں دواں ایرانی بحری جہاز سے اسلحے کی چھ کھیپوں کو منتقل کرچکی تھی۔ اسمگلنگ کی اس کشتی کو ساتویں پھیرے میں روک لیا گیا۔ یمنی باغیوں کو اسلحے کی اسمگلنگ کے الزام میں کشتی کے تین ملاحوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

* 4 اپریل کو امریکی فوج نے اعلان کیا کہ بحر عرب میں امریکی بحریہ کے دو جہازوں نے ایران کے اسلحے کی ایک کھیپ کو روک لیا جو یمن میں حوثی باغیوں کے لیے جا رہی تھی۔ کھیپ میں 1500 کلاشنکوفیں ، 200 آر پی جی گرینیڈز اور 50 ایم ایم کی 21 خودکار بندوقیں شامل تھی۔

* 27 فروری کو آسٹریلیا کی بحریہ نے ایک بادبانی کشتی کو روک کر اس سے 2000 کلاشنکوفیں ، 100 آر پی جی اور دیگر اسلحہ برآمد کر لیا تھا۔ 20 مارچ کو فرانسیسی بحری جہاز نے 2000 کلاشنکوفیں، درجنوں ڈریگونوو بندوقیں اور 9 ٹینک شکن راکٹ کے علاوہ دیگر سازوسامان ضبط کر لیا۔

* یکم مئی 2015 کو سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کو 2009 سے اسلحہ پیش کر رہا ہے۔ یہ رپورٹ 2013 میں یمنی حکام کے ہاتھوں ایرانی بحری جہاز "جیہان" کی تلاشی کے بعد ہونے والی تحقیق کے اختتام پر سامنے آئی ، یہ ایرانی جہاز اسلحہ لے کر جا رہا تھا۔

* اسی رپورٹ کے مطابق فروری 2011 میں یمنی حکام نے ایک شکار کی ایک ایرانی کشتی کو پکڑا جو ایران میں تیار کیے جانے والے 900 توپ اور طیارہ شکن راکٹوں کو لے کر حوثیوں کو پہنچانے جا رہی تھی۔

* 2007 میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے اجراء کے ذریعے ایران کی جانب سے اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے ذریعے تمام ممالک کو ہر قسم کے ایرانی اسلحے کی کھیپوں کو روکنے کا پابند بنایا گیا۔ اس پابندی پر عمل درامد کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

سلامتی کونسل کی جانب سے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر معاہدے سے متعلق قرارداد 2231 میں باور کرایا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں پر پابندی جاری رہے گی۔ تاہم ایران نے یمن ، شام اور حزاب اللہ کو میزائلوں کی برآمد کے علاوہ بیلسٹک تجربوں کے ذریعے اس قرارداد کی متعدد بار خلاف ورزی کی۔

* 8 مارچ کو ایرانی مسلح افواج کی اسٹاف کمیٹی کے نائب سربراہ جنرل مسعود جزائری نے حوثیوں باغیوں کی ملیشیاؤں کی مدد کے لیے ایرانی فورسز کے یمن بھیجے جانے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہ اقدام تہران کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کی سپورٹ کی طرز پر تھا جو شام میں اپنے عوام کو قتل کر رہی ہے۔

* 24 مئی 2015 کو ایران نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام بریگیڈ فیلق القدس کے نائب کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قائانی کی زبانی حوثیوں کی عسکری ، تربیتی اور لاجسٹک سپورٹ کا اعتراف کیا۔