.

شام پر بم باری کے لیے روسی میزائل ایران میں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن کی جانب سے روس کے اس فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا ہے جس کے مطابق روس کے بم بار طیاروں کو ایران کے مغربی فضائی اڈے ہمدان میں رکھا جائے گا تاکہ شام میں شام میں مسلح شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ روس کا یہ فیصلہ افسو ناک ہے مگر حیران کن نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واشنگٹن ابھی تک روس ایران تعاون کا جائزہ لے رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے ایرانی اڈوں کا استعمال، امریکا کو داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں تعاون کے لیے ماسکو کے ساتھ معاہدے کی ضرورت سے ہر گز نہیں روکے گا۔ تاہم انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ ان کا ملک ابھی تک تعاون کے حوالے سے کسی معاہدے تک نہیں پہنچا ہے۔ ٹونر نے واضح کیا کہ ماسکو امریکا کے حمایت یافتہ معتدل شامی اپوزیشن کے گروپوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

مارک ٹونر کے مطابق روس کا نیا اقدام امریکا کو تمام فریقوں کے مطلوب امور سے دور کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ شام کی تمام اراضی میں دشمنانہ کارروائیوں کے روکے جانے اور جنیوا میں سیاسی عمل کا نتیجہ اقتدار کی پر امن منتقلی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

روس نے بین الاقوامی اتحاد کو آگاہ کردیا تھا

اس سے قبل داعش کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان کرنل کرس گارور نے ایک اخباری کانفرنس میں بغداد سے وڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ روس نے پیشگی طور پر اتحاد کو آگاہ کردیا تھا کہ "شدت پسندوں" پر ضرب لگانے کے لیے اس کے بم بار طیارے ایران کے اڈے سے اڑان بھریں گے۔

بین الاقوامی اتحاد اور روس کسی بھی تصادم اور مقابلہ آرائی سے گریز کرتے ہوئے مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں اور کارروائیوں کے حوالے سے معلومات کے تبادلے کے خواہش مند ہیں۔

گارور نے مزید کہا کہ " ہماری کوشش ہوگی کہ جس وقت ان کے بمبار طیارے ہمارے زیرکنٹرول علاقوں کو عبور کریں اور پھر کارروائی کے بعد واپس لوٹیں تو اس وقت ہم اپنے دستوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں"۔

روسی وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ 16 اگست بروز منگل روس کے بم بار طیاروں ٹی یو-22 اور ایس یو-34 نے ایران میں ہمدان کے اڈے سے اڑان بھری اور حلب، دیر الزور اور ادلب کے علاقوں میں داعش تنظیم اور النصرہ محاذ کے ٹھکانوں پر بم باری کی"۔

گارور نے واضح کیا کہ شدت پسندوں کے وجود کا خصوصی زور حلب اور ادلب میں نہیں بلکہ دیر الزور میں ہے۔ یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ روس ایک سال قبل اپنی فوجی مہم کے آغاز کے بعد شام میں حملوں کے لیے کسی تیسرے ملک کا استعمال کر رہا ہے۔

روسی میڈیا نے ایرانی فضائی اڈے کے رن وے پر کھڑے روسی TU-22M3 بم بار طیاروں کی تصاویر بھی نشر کی ہیں۔

روسی چینل "روس - 24" نے منگل 16 اگست کو بتایا کہ روسی بم بار طیاروں کو ایران میں رکھنے سے پروازوں کے دورانیے میں 60% تک کمی آئے گی۔ چینل کے مطابق TU-22M3 بم بار طیاروں نے شام میں "دہشت گردوں" کو پر شدید ضربیں لگائیں۔