نینوی سے پیشمرگہ کے انخلاء سے متعلق عراقی وزیر اعظم کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں سہل نینوی کے علاقے میں پیشمرگہ فورس کی پیش قدمی سے عراقی حکومت کے اندر تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے پیشمرگہ فورس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موصل کی جانب اپنا دائرہ وسیع نہ کرے خواہ اس کی پیش قدمی نینوی کے معرکے میں شریک عراقی فوج کی سپورٹ کے لیے ہو۔ تاہم کردستان کی حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ سہل نینوی میں پیش قدمی جاری رہے گی۔ کردستان حکومت نے اپنے زیر کنٹرول آنے والے علاقوں سے انخلاء کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

کردستان حکومت کے انکار کے بعد پیشمرگہ فورسز کے سپریم کمانڈر مسعود برزانی نے اپنے زیر رسوخ علاقوں میں فورسز کے کام کے حوالے سے کئی فیصلے کیے۔ ان فیصلوں میں پیشمرگہ کا شہریوں کے ساتھ برتاؤ اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کا احترام خاص طور پر شامل ہیں۔ ان اصولوں کے تحت قانونی جواز کے بغیر شہریوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس جانب اشارہ بھی ہے کہ پیشمرگہ فورسز اس معاملے میں پاپولر موبیلائزیشن نہیں ہے۔

ان اصولوں کے اعلان کے بعد پیشمرگہ فورسز نے عراقی فوج کے ساتھ جُڑ جانے والے عناصر کو ضلع مخمور میں داخل ہونے سے روک دیا جہاں داعش تنظیم کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں