.

ہمدان میں روس کو فوجی اڈہ نہیں دیا : ايران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ہمدان کے فضائی اڈے سے اڑان بھرنے والے روسی طیاروں کے حملوں کے حوالے سے واشنگٹن اور ماسکو کے بعد اب تہران کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔

اس سلسلے میں ایرانی مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے اسپیکر علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ " خطے کے معاملات مثلا شام میں روس کے ساتھ بطور حلیف ہمارے تعاون کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اسے فوجی اڈہ دے دیا ہے۔ اگر کسی نے مذکورہ معاملے کو اس شکل میں پیش کیا ہے تو اسے یکسر مسترد کیا جاتا ہے"۔

لاریجانی نے یہ بات پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کہی۔ ایسا نظر آتا ہے کہ انہوں نے یہ وضاحت قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کے جواب میں کہی ہے۔ شمخانی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کے سلسلے میں ماسکو کو فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

دوسری جانب روس نے واشنگٹن کو اس امر پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ عالمی برادری کی ان قرار دادوں کی خلاف ورزی نہیں چاہتا ہے جو ایران کو کسی بھی قسم کے لڑاکا طیارے فراہم کرنے ، فروخت کرنے یا منتقل کرنے سے روکتی ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے مطابق " یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ ماسکو کا ایران سے اڑان بھر کر شام میں حملوں کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہے"۔

ادھر ایران سے اڑان بھرنے والے روسی طیاروں نے شام میں داعش تنظیم کے ٹھکانوں سے کہیں دور حلب اور ادلب میں شامی اپوزیشن گروپوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شام کے معتدل اپوزیشن گروپوں کو خصوصی طور مستقل بنیادوں پر نشانہ بنا رہا ہے۔