.

شام میں جنگ کا ''حقیقی چہرہ''، روس کی فضائی حملے سے تعلق کی تردید

حلب میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقے پر فضائی بمباری میں زخمی بچے کی تصویر کی سوشل میڈیا پر تشہیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ ایک علاقے پر فضائی حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔اس حملے میں ایک پانچ سالہ بچہ عمران دقنیش شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس بچے کا چہرہ خون آلود اور غبار آلود تھا اور خون میں لت پت اس بچے کو ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے نکالا گیا تھا۔اس کو اسپتال منتقل کرنے کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے۔

ایمبولینس میں بیٹھے اس بچے کی تصویر منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا شام میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔امریکا نے اس کی تصویر کو شام میں جاری جنگ کا حقیقی چہرہ قرار دیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اپنی روزانہ کی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ''اس کم سن بچے کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہوگا جس میں اس کے ملک میں جنگ ،ہلاکتیں ،غربت اور تباہی نہ ہوتی ہو''۔

انھوں نے اپنے معمول کے مطابق سفارتی نکات پر گفتگو کے بجائے نیوزبریفنگ میں موجود صحافیوں سے سوال پوچھا کہ آپ میں سے کتنے لوگوں نے اس بچے کی تصاویر دیکھی ہیں۔

عمران دنیش بدھ کے روز حلب کے باغیوں کے زیر قبضہ جنوب مشرقی علاقے قطرجی پر ایک فضائی حملے میں زخمی ہوگیا تھا۔اس کی ایمبولینس میں بیٹھے ہوئے تصویر بنائی گئی تھی۔اس صدمہ زدہ بچے کا چہرہ اور باقی جسم گرد سے اٹا ہوا تھا اور چہرے اور باقی اعضاء سے خون بہ رہا تھا۔

جان کربی نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:''آپ شاید کسی کے باپ نہ ہوں لیکن میں ہوں۔آپ اگر کچھ نہیں کرسکتے ہیں تو اس تصویر کی طرف دیکھیے،یہ شام میں جو کچھ رو نما ہورہا ہے،اس کی حقیقی عکاس ہے''۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمیں تنازعے کے کسی بہتر حل تک پہنچنے کے لیے مل جل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔انھوں نے بتایا کہ وزیرخارجہ جان کیری نے روس پر زوردیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ماسکو میں طے شدہ تجاویز پر عمل درآمد کے لیے کام کرے تاکہ شام میں جاری جنگی کارروائیوں کو رکوایا جاسکے اور داعش کے جہادیوں کے خلاف جنگ پر مکمل توجہ مرکوز کی جاسکے''۔

کم سن عمران کی تصویر کی بھی سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ پر اسی طرح تشہیر کی جارہی ہے جس طرح ایک سال قبل ترکی کے ساحل پر ایک تین سالہ بچے ایلان کردی کی لاش کی تیرتی ہوئی تصویر کی تشہیر کی گئی تھی۔اس تصویر نے ایک مرتبہ پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور میڈیا ذرائع اپنی خبروں ،تجزیوں اور تبصروں میں شام میں جاری خونیں جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زوردے رہے ہیں۔