عراق : اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ میں آگ لگانے والا گینگ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع سب سے بڑے اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ میں نومولود بچوں کے کمرے کو نذرآتش کرنے والے آٹھ رکنی گینگ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس واقعے میں تیرہ نومولود بچے زندہ جل گئے تھے یا دھویں سے دم گھٹنے سے زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

بغداد کی صوبائی کونسل کی سکیورٹی کمیٹی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ الیرموک اسپتال میں آگ لگانے اور دس کروڑ عراقی دینار ( 84602 ڈالرز) چُرانے کے الزام میں اس گینگ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے ایک رکن سعدالمطلبی نے عراق کی نیوز ویب سائٹ السمیریا کو بتایا ہے کہ ''اسپتال کے کنٹریکٹ روم میں دس کروڑعراقی دینار پڑے ہونے کی اطلاع تھی''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گینگ کے ارکان کے چہرے سکیورٹی کیمروں میں آ گئے تھے۔انھوں نے خود کو آڈٹ ٹیم کے ارکان کے طور پر متعارف کرایا تھا اور یہی کہہ کر وہ اسپتال میں داخل ہوئے تھے مگر وہ جب کنٹریکٹ کمرے میں داخل ہوئے تھے تو ان کے چہروں پر نقاب تھے۔انھوں نے رقم نکالنے کے بعد اس کمرے کو آگ لگادی تھی تاکہ ان کی چوری کا پتا نہ چل سکے۔

یہ کنٹریکٹ کمرا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی لابی سے متصل تھا۔اسی وجہ سے اے سی چینلوں کے ذریعے آگ اس لابی تک پھیل گئی تھی اور اس کی زد میں نومولود آ گئے تھے۔

ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا تھا کہ کمرے کو آگ لگانے کے لیے آتش گیر مواد استعمال کیا گیا تھا۔قبل ازیں 14 اگست کو عراق کی وزارت صحت کے ترجمان احمد الرودینی نے کہا تھا کہ یرموک اسپتال کے زچہ وبچہ وارڈ میں جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی اور ممکنہ طور پر وہاں آتش گیر مادہ پھینکا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں