عراقی سینئر قیدی کا ایرانی جیلوں کی تکالیف کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی جیلوں میں عراقی قیدیوں کے سابق رہ نما نزار السامرائی نے اپنی 20 سالہ قید کے دوران پیش آنے والی صعوبتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ نزار کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے 2 مارچ 1982 کو الاہواز کے شمال میں "الشوش" کے محاذ سے گرفتار کیا تھا ، ان کی رہائی 2002 میں عمل میں آئی۔

نزار عراقی وزارت ثقافت و ذرائع ابلاغ میں داخلی میڈیا کے دفتر کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ 1981 میں ایران کے خلاف جنگ میں خصوصی مشنز کے عراقی بریگیڈز میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ صحافی کو صرف دفتروں میں بیٹھ کر کام انجام نہیں دینا چاہیے بلکہ اس پر اپنے وطن کا دفاع بھی فرض ہے۔

اگرچہ نزار کا پس منظر ذرائع ابلاغ سے متعلق تھا تاہم محاذوں پر رضاکاروں کی سخت ضرورت ہونے کے سبب اسلحے کے حوالے سے ان کی مختصر تربیت پر اکتفا کیا گیا۔

نزار کے مطابق "قید کا تجربہ آغاز سے ہی بڑا سخت تھا۔ قید میں ایک عراقی افسر کو میرے سامنے موت کے گھات اتارا گیا۔ ایرانی فوجی اپنے زخمیوں کو اٹھا کر لے جانے کے لیے زخمی عراقیوں کی مدد لیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی زخمیوں کو طبی امداد دینے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ٹیمیں موجود نہیں ہیں۔

قید کے بعد دوسرا مرحلہ تحقیقات کا تھا جہاں نزار السامرائی کے ساتھ ایک ایرانی مذہبی شخصیت پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ نزار سے لڑائی میں شامل ہونے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتا دیا کہ "میں اپنے وطن کا دفاع کر رہا ہوں"۔ تاہم تحقیق کار کو یہ جواب کسی طور پسند نہ آیا جو عراقی قیدیوں کے ساتھ گالم گلوچ کر رہا تھا۔ مذکورہ تحقیق کار نے ایک شیعہ عراقی قیدی سے کہا کہ "عراق کے شیعہ ایران کے سنیوں سے زیادہ نجس ہیں"۔

نزار نے بتایا کہ " میں اپنے ساتھیوں کے برخلاف قید کے ابتدائی ایام میں تشدد کا نشانہ نہیں بنا"۔ تاہم بعد میں نزار کے عراق وزارت ذرائع ابلاغ میں ڈائریکٹر جنرل ہونے کا معلوم ہو جانے پر انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایرانی تحقیق کار نے نزار سے کہا کہ " اگر تم نے اپنے مضامین میں امام خمینی کے خلاف ایک لفظ بھی لکھا ہوتا تو تم کو اس کی قیمت اپنی جان کی صورت میں چکانا پڑتی"۔

نزار السامرائی نے العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "الذاكرۃ السياسيۃ" (سیاسی یادداشت) میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جن عراقی گرفتار شدگان نے ایران کے ساتھ تعاون کو قبول کر لیا تھا ، ایران نے ان کو " تائبین" کا نام دیا اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا تھا۔ تاہم نزار السامرائی کے اپنے مواقف پر قائم رہنے کی وجہ سے " تائبین" نے نزار کو پنے قیدخانوں میں منتقل کیے جانے کو مسترد کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ نزار السامرائی کی خصوصی نگرانی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں