ایران: مغرب کے ساتھ تیل کے خفیہ معاہدوں پر پارلیمنٹ برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے بند اجلاس میں وزیر تیل بیژان زنگنہ کے ساتھ شدید بحث مباحثہ دیکھنے میں آیا۔ اس ہنگامے کی وجہ ایرانی وزارت تیل کے کی جانب سے مغربی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے وہ خفیہ معاہدے ہیں جن میں ایرانی آئین کی مخالف شقیں شامل ہیں۔ اعتراض کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کے مطابق یہ معاہدے ایران کے مفادات اور اس کی تیل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔

تنقید کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کے تحت غیر ملکی کمپنیاں جن آئل فیلڈز کو فعال بنائیں گی، ان سے نکلنے والے تیل کی فروخت میں ان کمپنیوں کا بھی حصہ ہوگا۔

ان غیرملکی کمپنیوں کی تعداد 50 کے قریب ہے۔ یہ کمپنیاں 20 سے 25 سالوں کے لیے معاہدوں کو طے کریں گی۔ اس طرح وہ تیل نکالنے کے مرحلے میں بھی اس کی پیداوار کا مقررہ حصہ حاصل کریں گی اور پھر تیل اور گیس کی فیلڈز سے حاصل ہونے والے ذخائر میں بھی ان کا نصیب شامل ہوگا۔

معاہدوں کے نئے طریقہ کار کے مطابق غیرملکی کمپنیاں تیل نکالے جانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی پیداوار میں شراکت دار رہیں گی۔ مخالف ارکان پارلیمنٹ کے نزدیک اس طرح ملک کی تیل کی پالیسی مغرب کے زیرہدایت ہو جائے گی۔

دوسری جانب حسن روحانی کی حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی منڈیوں کی موجودہ صورت حال اور گرتی قیمتوں کی روشنی میں تیل کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو لانے کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ " تیل کے نئے معاہدوں پر قومی مفادات کے سلسلے میں ضروری اصلاحات پر عمل درامد کے بغیر دستخط نہیں کیے جائیں گے"۔

ادھر ایرانی وزیر تیل کا کہنا ہے کہ تیل اور گیس کے نئے معاہدوں کو ترامیم کی ضرورت ہے اور ان کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی کابینہ نے رواں ماہ معاہدوں کے ایک ترمیم شدہ مسودے کو منظور کرنے کے بعد اسے پارلیمنٹ بھیجا تھا تاہم ارکان پارلیمنٹ نے اس منصوبے کے حوالے سے 15 ترامیم کرنے کی تجویز دے ڈالی۔

ایران اس وقت اپنی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ رواں سال جنوری میں مغربی پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد وہ عالمی منڈی میں اپنا حصہ واپس لے سکے۔ اس طرح اس کی پیداوار پابندیوں سے پہلے کی سطح پر پہنچ جائے جو یومیہ 38 سے 40 لاکھ بیرل ہوچکی تھی۔

دوسری جانب تیل کی بڑی عالمی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ خریداری کے معاہدوں میں بڑی تبدیلیاں لائے جانے تک ایران کی طرف نہیں لوٹیں گی۔ کئی معروف کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدوں کے نتیجے میں منافع نہیں حاصل کیا بلکہ بہت نقصان اٹھایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں