روس نے ایران میں ہمدان کے اڈے کا استعمال روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے پیر کے روز بتایا ہے کہ روس نے شام میں حملوں کے لیے ہمدان میں ایرانی فضائی اڈے کا استعمال روک دیا ہے۔ یہ اقدام ماسکو کے اس اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روسی طیارے شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کے ایک اڈے سے اڑانیں بھر رہے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی " تسنیم" نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ " ایران میں روس کے اڈے نہیں ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو کیا اور فی الوقت معاملہ اختتام پذیر ہوچکا ہے"۔

دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع حسین دہقان نے پیر کے روز روس کو تنقید کا نشانہ بنایا کیوں کہ اس نے شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ہمدان کا فضائی اڈہ استعمال کرنے کا انکشاف کیا۔ دہقان کے مطابق روس کے اس فعل سے اختلافات جنم لیں گے۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے چینل 2 کے ساتھ انٹرویو میں دہقان کا کہنا تھا کہ " روس رسوخ کی حامل ریاست ہے اور وہ خطے اور دنیا بھر میں امن و امان سے متعلق معاملات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں"۔

دہقان کے مطابق " ہم شامی حکومت اور روس کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ " روس نے کارروائیوں میں طیاروں کی زیادہ بڑی تعداد استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس کو کارروائیوں کے مقام سے قریب تر علاقے میں اپنے طیاروں کو رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسی واسطے انہوں نے (ہمدان میں) نوجہ کے اڈے کا استعمال کیا تاہم ہم نے کسی طور بھی ان کو کوئی فوجی اڈہ نہیں دیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں