فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی اکثریت امن کی خواہاں : سروے

مذاکرات کی ناکامی کے تناظر میں89 فی صد فلسطینیوں کے نزدیک اسرائیلی یہودی قابل اعتماد نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی اکثریت اب بھی تنازعے کے پُرامن حل اور اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں ہے۔

اسرائیل کی ایک ماہر سیاسیات تمر ہرمن نے فلسطینی سروے کار خلیل شیکاکی کے ساتھ مل کر یہ سروے کیا ہے اور اس کے نتائج سوموار کو جاری کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''موجودہ حالات میں اس سروے کے نتائج کے کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں لیکن یہ حوصلہ شکن بھی نہیں ہیں۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوش امیدی کی ابھی کچھ بنیادیں موجود ہیں''۔

سروے کے نتائج کے مطابق 51 فی صد فلسطینی اور 59 فی صد اسرائیلی اب بھی تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔اسرائیل سے تعلق رکھنے والے 53 فی صد یہود ایک آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں ہیں۔اسرائیلی عرب اقلیت میں اس حمایت کی شرح 87 فی صد ہے۔

اس کے برعکس صرف 34 فی صد فلسطینی اور 20 فی صد اسرائیلی ایک مشترکہ ریاست کی تجویز کے حامی ہیں جہاں دونوں قوموں کو مساوی شہری حقوق حاصل ہوں۔گذشتہ دوعشروں کے دوران امن کوششوں کی ناکامی اور گذشتہ قریبا ایک سال سے جاری مسلسل تشدد کے واقعات کے تناظر میں 89 فی صد فلسطینی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اسرائیلی یہودی قابل اعتماد نہیں ہیں جبکہ 68 فی صد اسرائیلی یہود فلسطینیوں کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں۔

رائے عامہ کے اس جائزے سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ 65 فی صد اسرائیلی فلسطینیوں سے خوف زدہ ہیں جبکہ صرف 45 فی صد اسرائیلی فلسطینیوں سے خوف کھاتے ہیں۔ہرمن کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلیوں میں خوف کی بلند سطح پر حیران رہ گئی ہیں اور اس کے متعدد عوامل ہیں۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بہت سے اسرائیلیوں کا فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست کوئی ربط وتعلق نہیں ہے۔اس لیے دوسرے فریق کو کم تر قرار دینا آسان ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ تشدد کی حالیہ لہر نے اسرائیلی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا حالانکہ وہ اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں سے زیادہ محفوظ ہے۔

اس سروے کے دوران جون میں 1270 فلسطینیوں اور 1184 اسرائیلیوں سے انٹرویوز کیے گئے تھے۔اس کے نتائج میں 3 فی صد پوائنٹس کی غلطی کا امکان ہے۔یہ سروے ہرمن کے اسرائیل ڈیمو کریسی انسٹی ٹیوٹ اور شیکاکی کے فلسطین مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں