ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا جرابلس کو آزاد کرانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شام کے شمالی شہر جرابلس کو داعش کے جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

شام کے ایک باغی گروپ سلطان مراد کے کمانڈر احمد عثمان نے میدان جنگ سے بتایا ہے کہ جرابلس کو مکمل طور پر آزاد کرا لیا گیا ہے۔ایک اور باغی ترجمان نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجو جنوب مغرب میں واقع سرحدی شہر الباب کی جانب راہ فرار اختیار کر گئے ہیں۔

قبل ازیں ایک اور باغی گروپ فیلق الشام کے ایک کمانڈر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ داعش کے بیشتر جنگجو جرابلس کو خالی کرکے چلے گئے ہیں اور ان میں سے بعض ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ایک اور کمانڈر کا کہنا تھا کہ شہر کا قریباً پچاس فی صد حصہ اب ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

فیلق الشام کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے جرابلس کے نواح میں واقع دیہات کو بھی خالی کردیا ہے اور وہ اس سے مزید جنوب میں واقع شہر الباب کی جانب چلے گئے ہیں۔

ترک فوج نے بدھ کو علی الصباح توپ خانے سے داعش کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی تھی اور فضائی حملے کیے تھے۔اس کے بعد ترک فوج کے ٹینک اور خصوصی دستے شام کے سرحدی علاقے میں داخل ہوگئے تھے تا کہ جرابلس کو داعش کے جنگجوؤں سے پاک کرایا جاسکے اور کرد باغیوں کو اس کی جانب پیش قدمی سے روکا جا سکے۔

ترک وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فرات کی ڈھال'' کے نام سے یہ آپریشن صبح چار بجے شروع کیا گیا تھا۔ترک توپ خانے نے جرابلس کے نواح میں داعش کے دسیوں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد ترک ٹینک اور خصوصی دستے شام کی سرحد عبور کرکے جرابلس میں داخل ہوگئے تھے۔

داعش کے جنگجو ماضی میں اس شہر سے ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب راکٹ فائر کرتے رہے ہیں۔شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی نے شام کے کسی علاقے میں اپنی زمینی فوجیں داخل کی ہیں اور اس طرح داعش کے خلاف فوجی مداخلت کی ہے۔قبل ازیں ترکی کے لڑاکا طیارے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتے رہے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا کہ شام میں فوجی کارروائی کا مقصد داعش سمیت دہشت گرد گروپوں اور امریکا کے حمایت شامی کرد ملیشیا سے لاحق خطرات کو روکنا ہے۔اںھوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن ترکی میں دہشت گردی کے پے درپے حملوں کے ردعمل میں کیا جارہا ہے۔ترکی کے ایک سرحدی شہر غازی عنتاب میں اسی ہفتے کے روز شادی کی ایک تقریب میں خودکش بم دھماکے میں چوّن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں