جدہ: یمن کے معاملے کو متحرک کرنے کے لیے اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں آئندہ دو روز کے دوران اہم اجلاس ہونے جا رہے ہیں۔ان اجلاسوں میں خلیجی ممالک ، امریکا اور برطانیہ کے وزراء خارجہ کے درمیان یمن کا بحران زیر بحث آئے گا۔ کویت میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی امن مشاورت کو باغیوں کی جانب سے ناکام بنا دیے جانے کے بعد ملک میں عسکری کارروائیوں میں پھر سے اضافہ ہوگیا ہے۔

خلیجی ذمہ داران کے حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے لندن سے جدہ تک بین الاقوامی موقف مستحکم ہو رہا ہے۔

بدھ کے روز جدہ میں ہونے والے اجلاس میں خلیجی ممالک ، امریکا اور برطانیہ کے وزراء خارجہ کے علاوہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد بھی شرکت کریں گے۔

سفارتی تجزیہ کاروں کے نزدیک جدہ کے اجلاس میں یمن کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی تجویز کی تائید پر اتفاق سامنے آئے گا جس طرح کچھ عرصہ قبل لندن میں سعودی عرب ، امارات ، امریکا اور برطانیہ کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں ہوا تھا۔

بدھ کے اجلاس میں نئی بات روس کی نمائندگی ہو گی۔ اجلاس میں روسی نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانوف شریک ہوں گے جو یمنی ذمہ داران کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں باور کرا چکے ہیں کہ ماسکو یمنی صدر ہادی کی آئینی حیثیت کی سپورٹ جاری رکھے گا اور صنعاء میں باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو یک طرفہ جانتے ہوئے ان کو تسلیم نہیں کرتا۔

یمنی ذمہ داران نے "العربیہ" نیوز چینل کو بتایا کہ اہم بات یہ ہے کہ اجلاس کے شرکاء اس امر پر زور دے سکتے ہیں کہ باغیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر عقوبتی اقدامات کیے جائیں۔

یمن میں برطانوی سفیر نے اقرار کیا کہ سیاسی کونسل اور اس جیسے دیگر آئین کے منافی اقدامات سے باغیوں کی بری نیت کا واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے، یہ تمام امور یمن کے بحران کے حل کے راستوں کو مضبوط کرنے کے بجائے ملک میں تشدد میں اضافے کے واسطے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں