برطانیہ کے لیے جاسوسی.. ایرانی نیوکلیئر وفد کا رکن گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی میڈیا کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نیوکلیئر مذاکرات میں ایرانی وفد میں شامل ایک رکن اور وفد کے بینکنگ امور کے ذمہ دار دری اصفہانی کو ایک غیرملکی ریاست کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی سکیورٹی ذرائع کے قریب شمار کی جانے والی ویب سائٹ " نسیم" کے مطابق ایرانی انٹیلجنس نے کچھ عرصہ قبل مذکورہ مذاکرات کار کو حراست میں لیا جس کے پاس برطانیہ اور ایرانی کی دہری شہریت ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

خبر کی تردید کے بعد ٹیلیگرام پر ایک چینل نے دری اصفہانی کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات نشر کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کر دی۔ چینل کے مطابق بعض میڈیا ذرائع نے منگل 16 اگست کو تہران کے اٹارنی جنرل جعفری دولت آبادی کا ایک بیان جاری کیا تھا جس میں غیرملکی شہریت کے حامل ایک ایرانی شہری کی برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتاری کا بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار شخصیت اقتصادی شعبے میں سرکاری اور نجی دونوں سیکٹروں میں سرگرم تھی۔ وہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مذاکراتی ٹیم میں ایک کمیٹی کی سربراہی بھی کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ مذاکراتی ٹیم میں ایک مالیاتی ادارے کی نمائندگی کی ذمہ دار بھی تھی۔

مذکورہ شخصیت پر عائد کیے جانے والے الزامات میں امریکی اور برطانوی اداروں سے تنخواہوں کے مقابل ان کو ایرانی نظام سے متعلق اہم اقتصادی معلومات کی فراہمی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق دری اصفہانی بعض بینکوں کے بڑے مشیروں اور متعدد بینکوں کی مجلس عاملہ میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق دری اصفہانی برطانیوں کو فراہم کی جانے والی معلومات کے عوض ماہانہ 7500 پاؤنڈ اسٹرلنگ وصول کر رہا تھا۔

اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "فارس" میں سیاسی امور کے ماہر یاسر جبرائیلی نے دری اصفہانی کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کر دی۔

اگرچہ سکیورٹی اداروں کے قریبی میڈیا ذرائع نے مذاکراتی وفد کے رکن کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے تاہم ایرانی وزارت خارجہ اب بھی جاسوسی کے الزام میں اصفہانی کی گرفتاری کی تردید کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں