.

ایرانی آئل ٹینکروں سے متعلق بدعنوانی کے اسکینڈل کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جاری بدعنوانی کے سلسلے نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ تازہ ترین انکشاف میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے اہل کاروں کی جانب سے 3 بہت بڑے آئل ٹینکروں کو چوری کرنے اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دینے کی تفصیلات منظرعام پر آئی ہیں۔

اس سلسلے میں ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایرانی حکام نے ایک یونی تاجر کو گرفتار کیا ہے جو احمدی نژاد کی حکومت کے لیے ایران کے 3 آئل ٹینکروں کو خفیہ طور پر منتقل کر کے فروخت کرنے میں ملوث رہا۔

ایرانی نیوز ایجنسی "اِيلنا" کے مطابق احمدی نژاد کی حکومت نے تیل کے 8 آئل ٹینکروں کو ان میں موجود تیل کے ساتھ بنا کسی معاہدے اور قانونی اقدامات کے ایک یونانی تاجر کے حوالے کردیا تھا۔ مذکورہ شخص نے ان تمام آئل ٹینکروں کو ایرانی پانی سے باہر منتقل کیا۔

ایجنسی کے مطابق موجودہ صدر روحانی کی حکومت ان میں سے 5 آئل ٹینکروں کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئی۔ تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یونانی تاجر نے دیگر تین ٹینکروں کو فروخت کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو تقریبا 10 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایرانی ایڈوکیٹ اور ماہر قانون محمد صالح نيک بخت نے روزنامہ "آرمان امروز" کو بتایا کہ " قانونی اقدامات کے بغیر ریاست کی املاک کی خرید وفرخت کا کوئی بھی معاہدہ یا ڈیل کرنا یہ غیرقانونی ہے۔ بدعنوانی کی ان ڈیلوں میں ملوث افراد کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے"۔

ادھر یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی حکام کو گرفتار یونانی تاجر کے قبضے سے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بھی ملے جو کہ ایرانی ریٹائرمنٹ فنڈ سے لیے گئے تھے۔ یونانی تاجر نے یہ رقم 2013 کے اوئل میں آٹھ آئل ٹینکروں کی ڈیل کے مقابل کمیشن کے طور پر لی تھی۔

اس سے قبل گزشتہ برس ایرانی حکام نے آئل پلیٹ فارمز کی چوری کا بھی انکشاف کیا تھا۔ اس سلسلے میں گزشتہ نومبر میں سابق صدر محمد خاتمی کی حکومت میں ایرانی وزیر ثقافت عطاء اللہ مہاجرانی کے بیٹے محمد محسن مہاجرانی کو گرفتار کیا گیا۔ اس پر ایک آئل پلیٹ فارم کی چوری کا الزام تھا جو سمندر سے تیل نکالنے میں کام آتا ہے۔ حکام کے مطابق مہاجرانی کو عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا اور اس پر جس آئل پلیٹ فارم کی چوری کا الزام ہے اس کی قیمت 8 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

آئل سیکٹر میں دیگر نوعیت کی بدعنوانی کے بے تحاشہ معاملات ہیں جن کے سبب ایرانی نظام کے متعدد انتہائی قریبی ذمہ داران کے خلاف عدالتی کارروائی ہوئی۔ اسی طرح ایرانی پاسداران انقلاب کے قریبی ذمہ داران اور کارباری شخصیات بھی جن میں اکثریت بلیک مارکیٹ میں ایرانی تیل کو فروخت کرنے میں ملوث رہی۔