.

تصاویر: شامی شہر داریا میں پھنسے شہریوں اور باغیوں کے انخلا کا آغاز

شہریوں کی پہلی کھیپ چھ بسوں کے ذریعے داریا سے روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں متحارب فریقوں کے درمیان چار سالہ محاصرہ ختم کرنے پر اتقاق کے بعد داریا شہر سے شہریوں اور باغی جنگجوؤں کا انخلا شروع ہوگیا ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق داریا میں پھنسے ہزاروں شہریوں سے بھری پہلی چھ بسیں درایا سے روانہ ہوئی تو ایمبولنسیں اور ہلالِ احمر کی گاڑیاں اس کے ہمراہ تھیں۔ سنہ 2012ء کے بعد سے شامی فوج کی جانب سے جاری داریا کے محاصرے کے بعد پہلی بار یہاں سے شہریوں اور جنگجوؤں کو نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق باغی جنگجو باغیوں کے زیر کنٹرول شہر ادلب جائیں گے جبکہ عام شہریوں کو حکومت کی طرف سے قائم کردہ امدادی کیمپوں میں لے جایا جائے گا۔

شام کی سکیورٹی فورسز نے سال 2012 میں درایا کا محاصرہ کیا تھا اس کے بعد سے شہر پر مسلسل بمباری کی جاتی رہی ہے جس کے باعث شہریوں کو خوراک، پانی اور بجلی کی قلت کا سامنا تھا۔

خبر رساں ادارے’ اے ایف پی‘ کے مطابق داریا سے انخلاء کرنے والے شہریوں میں اکثریت خواتین، بچوں، عمررسیدہ شہریوں اور مریضوں پر مشتمل ہے۔ بسوں کے ذریعے نکلنے والے شہریوں کے ہمراہ سیکیورٹی کی گاڑیاں اور ہلال احمر کی ایمبولینس بھی ہمراہ ہیں۔ عام شہریوں کو مغربی دمشق کے قریب حکومت کے قائم کردہ الحرجلہ کیمپ میں لایا جائے گا جب کہ باغیوں کے 300 خاندانوں کو ادلب بھیجا جائےگا۔ مجموعی طورپر 700 جنگجو اور 4000 عام شہری داریا سے نقل مکانی کریں گے۔

داریا سے انخلاء کے عمل می تصاویر سوشل میڈیا پر آئی ہیں جن میں شہریوں کو بمباری سے تباہ حال قصبے اور گھر چھوڑ کر زندگی بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔