ایران : داعش کے لیے جاسوسی ، مغربی سفارت کار حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج فورسز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی انٹیلجنس نے دو برطانوی اور ایک فرانسیسی سفارت کار کو حراست میں لے لیا ہے۔ تینوں افراد پر داعش تنظیم کے لیے ایرانی عسکری مراکز کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اس خبر کو تردید کی ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" نے وزارت خارجہ کے باخبر ذرائع کے حوالے سے ایران کے مغربی صوبے کردستان کے ایک علاقے میں فرانسیسی اور برطانوی سفارت خانوں سے تعلق رکھنے والے یورپی سفارت کاروں کی گرفتاری کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ان مذکورہ سفارت کاروں کو صوبے میں تصاویر لیتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اس علاقے میں سرکاری اجازت سے گئے تھے۔ صوبے میں ان افراد کی گاڑی کو متعلقہ حکام نے روکا تھا تاہم شناخت کی تصدیق ہونے کے بعد وہ آگے چل دیے۔

تاہم بسیج کے کمانڈر کا اصرار ہے کہ ان سفارت کاروں کو کردستان صوبے میں حراست میں لیا گیا جب کہ وہ داعش تنظیم کے واسطے حساس عسکری مراکز کی تصاویر بنا رہے تھے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" نے کردستان صوبے کے معاون برائے سیاسی و سکیورٹی امور علی رضا آشناکر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ سفارت کار سرحدی علاقے میں بغیر اجازت داخل ہوئے تھے اور جس وقت وہ تصاویر اتار رہے تھے تو ان کو آگاہ کردیا گیا کہ اس کی اجازت نہیں ہے کیوں کہ وہ لوگ بغیر اجازت نامے کے آئے ہیں۔ تاہم آشناکر نے ان سفارت کاروں کی گرفتاری کی تردید کی۔

دو افراد کی شناخت کے حوالے سے آشناکر نے بتایا کہ فرانسیسی سفارت خانے کے مشیر سباستیان سورن اور برطانوی سفارت خانے کے مندوب وارن والر سفارتی نمبر پلیٹ کی ایک پجیرو چلا رہے تھے۔

دوسری جانب بسیج کے کمانڈر نقدی کا کہنا ہے کہ " فرانس اور برطانیہ پرانے زمانے سے ایران کو تباہ کرنے پر کام کر رہے ہیں اور ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ اس ملک پر کنٹرول حاصل کر لیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں