حجاج کرام کے رُوٹس جانیے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ سالوں کے دوران مجموعی طور پر پانچ میقاتوں پر حجاج کرام کا حجم کافی بڑھا رہا۔ بعض میقاتوں پر تو حجاج کرام کا بے انتہا دباؤ دیکھا گیا۔ تاہم اب ان ہی میقاتوں کے ذریعے گزرنے والوں کا رش کم ہوگیا ہے جس کی وجہ حجاج کرام کی آمد کے لیے دیگر علاقوں میں روٹ کی تبدیلی ہے۔۔

مکہ مکرمہ کے لیے "ذو الحليفۃ"، "قرن المنازل"، "يلملم"، "الجحفۃ" اور "ذات عرق" وہ پانچ میقاتیں ہیں جہاں مشاعر مقدسہ کا رخ کرنے والے حجاج کے قافلوں کا ٹھہرنا ناگزیر ہے۔ شرعی طور پر یہاں رکنا ایک دینی فریضہ ہے جہاں حجاج کرام حج کی ادائیگی کی نیت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اور میقات "مسجد التنعيم" کا بھی اضافہ ہوا ہے جو اہل مکہ کے رہنے والے مقامی یا مقیم افراد کے حج کے لیے میقات شمار کی جاتی ہے۔

"قرن المنازل" کو نجد اور خلیج کے عرب ممالک کے حجاج کرام کی میقات سمجھا جاتا ہے۔ حجاج کرام کے ایک منتظم علی السعدی کے مطابق طائف میں "الھدا" کے راستے کے افتتاح نے ایک متوازی میقات بنانے میں اہم کردار ادا کیا جو کہ اس وقت " وادی محرم" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس نئے مقام نے ریاض کے مشرق اور جنوبی علاقوں سے آنے والے حجاج کرام کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ خلیج کے عرب ممالک کے بھی بہت سے حجاج کو اپنی طرف کھینچا ہے۔

السعدی نے واضح کیا کہ "يلملم" کا علاقہ یمن کے ساحل، انڈونیشیا، ملائیشیا، چین اور بھارت سے آنے والے حجاج کے لیے میقات کی حیثیت رکھتا ہے اور ان دنوں یہ "السعديۃ" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سال قبل یہ بہت گنجان میقاتوں میں سے ہوتی تھی تاہم اب یہاں پر کم رش ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیائی حجاج کرام کا روٹ (جدہ – مكہ) سے تبدیل کر کے (مدينہ - مكہ) کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اب ان کا گزر اہلیان مدینہ کے لیے مخصوص "ذو الحليفۃ" میقات سے ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں متوازی اور غیرگنجان میقاتوں کے حوالے سے ایک دوسرے حج منتظم سعد الشریف نے بتایا کہ "الجحفۃ" کا گاؤں جو شام ، مصر، مراکش اور افریقا کے حجاج کے لیے میقات شمار ہوتا ہے.. اس کو ایک متوازی میقات سے بدل دیا گیا اور یہ بحر احمر کے ساحل پر واقع شہر رابغ ہے۔

اگر "ذات عرق" کے علاقے کی بات کی جائے جو عراق اور شمالی نجد والوں کے لیے میقات ہے، تو یہ ابھی تک حجاج کرام سے خالی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پکے راستے نہ ہونے کے پیش نظر یہاں پہنچنا کافی دشوار ہے۔ اسی واسطے مذکورہ میقات کے حجاج "قرن المنازل" کی میقات سے ہی احرام باندھ لیتے ہیں جو کہ اب میقات السیل الکبیر کے نام سے جانی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایک حج منتظم خالد حلبی نے بتایا کہ علماء کرام کے فتوؤں نے حجاج کرام کے لیے بہت سہولت پیدا کر دی ہے بالخصوص وہ حجاج جو فضائی سفر کے ذریعے آتے ہیں۔ یہ لوگ طیارے کے میقات کے متوازی ہونے پر طیارے میں احرام باندھ کر نیت کر سکتے ہیں۔

حلبی کے مطابق اسلامی امور اور اوقاف کی وزارت نے ان میقاتوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی منصوبوں پر مستقل بنیادوں پر کام جاری ہے۔ یہ میقاتیں معاشی لحاظ سے بھی اہم مقامات شمار کی جاتی ہیں جہاں پر واقع دکانیں اور تجارتی مراکز وسیع پیمانے پر منافع کماتے ہیں اس لیے کہ یہاں سے حجاج کے قافلوں کے قافلے گزرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں