شام : داعشی بچوں کے ہاتھوں 5 قیدیوں کا کام تمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

داعش تنظیم کی جانب سے ایک نئی خوف ناک وڈیو جاری کی گئی ہے جس میں داعشی بچوں کو شام میں کرد قیدیوں کے سروں میں گولیاں مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ڈیتھ بریگیڈ میں گورے رنگ اور نیلی آنکھوں والا ایک بچہ بھی نمودار ہوا جس کی عمر تقریبا 12 ہوگی۔ داعش نے اس کو " ابو عبد الله البريطانی" (برطانوی ابو عبداللہ) کا نام دیا ہے۔ یہ بچہ وڈیو سے لی گئی تصویر میں دائیں سے دوسرے نمبر پر نظر آرہا ہے۔

داعش کے ڈیتھ بریگیڈ کے رکن اس بچے نے کامیابی کے ساتھ گولی چلائی اور وہ عربی اور انگریزی زبان اچھی طرح بولتا ہے۔

داعش کے زیرکنٹرول شامی شہر الرقہ میں حال ہی میں ریکارڈ کی جانے والی اس وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیتھ بریگیڈ مختلف شہریت رکھنے والے 5 بچوں پر مشتمل ہے۔

مقتول قیدیوں نے نارنجی رنگ کا یونیفارم پہن رکھا تھا۔

وڈیو کلپ میں بچے شام میں موجود کردوں کے خلاف معاند نعرے لگا رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے " الله أكبر" کا نعرہ بلند کر کے اپنے پستولوں سے قیدیوں کے سروں میں پیچھے سے گولیاں ماریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں