.

امریکی بمبار طیاروں نے حسکہ میں شامی جنگی جہاز بھگا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے دو امریکی جنگی طیاروں نے شام کے شہر حسکہ کی فضاء میں پرواز تھی۔ اس دوران شامی فوج کے دو بمبار طیارے امریکی جہازوں کے قریب آئے تاہم انہیں بھگا دیا گیا۔ امریکا کے ایک ہوا باز کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر ایسے لگتا ہے کہ شامی فوج کے جنگی طیارے ان کی فضائی مہم روکنے کے لیے نہیں آئے تھے۔

امریکی فوج کے ایک میجر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار’یو ایس اے ٹوڈے‘ کو بتایا کہ امریکی جنگی طیاروں نے حسکہ کی فضاء میں تین پروازیں کیں۔ بادی النظر میں شامی فوج کے جنگی جہازوں کے ہوابازوں کو ہمارے جنگی طیاروں کی موجودگی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔

خیال رہے کہ 19 اگست کو امریکا نے اپنے ہلکے نوعیت کے ’ایف 22‘ جنگی طیارے شام میں حسکہ کی فضاء میں روانہ کیے۔ امریکی طیاروں نے شامی فوج کے ’’سو24‘‘ نامی بمبار طیاروں کو بھگا دیا تھا۔

شام کے شمال مشرقی شہر حسکہ میں کرد جنگجو لڑ رہے ہیں، جہاں امریکی اسپیشل فورسز کے کمانڈوز ان کی عسکری رہ نمائی میں بھی مصروف ہیں۔ یہ جنگجو شامی فوج اور داعش دونوں سے برسرپیکار ہیں۔

حسکہ میں امریکی طیاروں کی روانگی کا مقصد یہ تھا کہ روسی ساختہ شام کے جنگی طیاروں کو داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کے طیاروں کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔

تاہم امریکی ہوا بازوں کا کہنا ہے کہ ایسے لگ رہا تھا کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے ہماری موجودگی کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ وہ ہم سے 600 میٹر کے فاصلے پر رہے۔

دوسرے امریکی ہوا باز نے کہا کہ انہوں نے حسکہ کی فضاء میں موجود شامی طیاروں سے وائر لیس کے ذریعے رابطے کی کوشش کی مگر رابطہ نہیں ہو سکا۔

تاہم امریکی طیاروں کا قطر میں موجود اپنے مانیٹرنگ سینٹر سے رابطہ تھا جہاں پر میجر جنرل جائی سیلفیریا خطرے کی صورت میں شامی طیاروں پر فائر کرنے کا حکم دینے کو تیار بیٹھے تھے۔

امریکی فوجی پائلٹ نے کہا کہ اگر ان کی شامی طیاروں کےساتھ مڈ بھیڑ ہو جاتی تو وہ حملہ کرنے میں بالکل متردد نہ ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خطرہ ہوتا تو ہم شامی طیاروں کو ما گرانے میں ذرا بھی تامل نہ کرتے۔ ہمارے پاس شامی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین اسلحہ موجود تھا۔

آخر کار شامی فوج کے جنگی طیارے جو بہ ظاہر غیرمسلح دکھائی دے رہے تھے امریکی جنگی جہازوں سے کافی فاصلے پر چلے گئے تھے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا شامی ہوابازوں کو اپنے تعاقب کا احساس ہوا تھا یا نہیں۔