.

ایران میں 12 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے ہفتے کی صبح 12 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درامد کرتے ہوئے انہیں پھانسی دے دی۔ اقوام متحدہ کی پرزور مذمت کے باجود موت کے گھاٹ اتارے جانے والے ان افراد پر منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق الزامات تھے۔

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے زیر انتظام ایجنسی "ہرانا" کے مطابق ان قیدیوں کو پھانسی سے قبل گزشتہ بدھ کے روز تہران کے جنوب مغربی میں واقع شہر کرج کے جیل میں انفرادی کوٹھڑیوں میں پہنچا دیا گیا تھا۔

ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ڈاکٹر احمد شہید نے ہفتے کی صبح جاری ایک بیان میں تہران میں حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ان افراد کو پھانسی نہ دیں۔ یہ بیان قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درامد سے چند گھنٹے قبل دیا گیا۔

ڈاکٹر احمد شہید نے مذکورہ قیدیوں کے خلاف جاری احکامات کو "غیر منصفانہ اور تمام بین الاقوامی منشوروں اور معاہدوں کے خلاف" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ایرانی حکومت ابھی تک ایسے الزامات کے تحت لوگوں کو سزائے موت دے رہی ہے جو شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے آئی سی سی پی آر کی شقوں کے کے مطابق خطرناک جرائم نہیں"۔

ڈاکٹر شہید نے واضح کیا " بعض ملزمان کو تو اپنے وکیلوں سے صرف 20 منٹ بات چیت کرنے کا موقع مل سکا جب کہ ایک ملزم علی رضا مدد پور کو پانچ سال قبل ایک گھر میں صفائی کے ملازم کے طور پر کام کرنے کے دوران گرفتار کیا گیا اور گھر سے 900 گرام حشیش برآمد ہوئی تھی"۔

یاد رہے کہ صدر روحانی کے دور صدارت میں سزائے موت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جہاں حکام نے 2015 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران ملک کی مختلف جیلوں میں 700 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جب کہ 2015 میں سزائے موت پانے والوں کی مجموعی تعداد 969 ہے جو 25 سال میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔