.

شام میں ترک طیاروں کے کرد جنگجوؤں پر حملے، 35 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شام کے شمالی علاقوں میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہر جرابلس کے نواح میں واقع متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے بتایا ہے کہ ترک لڑاکا طیاروں کی بمباری سے پچیس کرد دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے زیر استعمال پانچ عمارتیں تباہ کردی گئی ہیں۔

اناطولو کا کہنا ہے کہ ترک فوج علاقے میں رہنے والے شہریوں کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے ہر طرح کے پیشگی حفاظتی اقدامات کررہی ہے۔

ترک طیاروں نے کرد ملیشیا کے ایک راکٹ حملے کے ردعمل میں یہ بمباری کی ہے۔اس راکٹ حملے میں ایک ترکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔ ترک فورسز اور ان کے حامی شامی باغی دریائے فرات کے مغربی کنارے کے علاقے سے کرد ملیشیا اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو پسپا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ایس ڈی ایف نے اس ماہ کے اوائل میں جرابلس سے جنوب میں واقع منبج شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں داعش کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد پسپا کردیا تھا۔

ترکی اور امریکا نے کرد ملیشیا وائی پی جی کو دریائے فرات کے مغربی کنارے سے مشرقی کنارے کی جانب چلے جانے کا حکم دے رکھا ہے۔وائی پی جی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کے یونٹوں نے ایس ڈی ایف کے لیے مشاورتی کردار ادا کیا تھا اور یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی فورسز فرات کے مغرب میں موجود ہیں۔

ایس ڈی ایف کے ترجمان شیروان درویش کا کہنا ہے کہ ترک فوج کے فضائی حملے اور گولہ باری رات کو شروع ہوئی تھی اور اتوار کو بھی جاری رہی تھی۔اس کے نتیجے میں بیر خوصہ اور اس کے نزدیک واقع علاقوں میں متعدد شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ گاؤں عمرانہ پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں پچاس ترک ٹینک حصہ لے رہے ہیں۔

ترک فوج کے خصوصی دستے گذشتہ بدھ کو ٹینکوں کے ساتھ شام کے سرحدی شہر جرابلس میں داخل ہوئے تھے اور ان کی مدد سے شامی باغیوں نے اس شہر کو داعش سے آزاد کر لیا تھا۔ترکی نے کرد جنگجوؤں اور داعش کے خلاف اس کارروائی کو فرات کی ڈھال کا نام دیا ہے اور اس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں سے ترکی کے ساتھ واقع شام کا سرحدی علاقہ پاک کرانا اور امریکا کی حمایت یافتہ شامی کرد ملیشیا سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا اور انھیں روکنا ہے۔