.

عراق کے بارے میں پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی : سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں متعیّن سعودی سفیر ثامر السبھان نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' عراق کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی''۔ انھوں نے یہ بات عراق کے اس مطالبے کے ردعمل میں کہی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ سعودی عرب بغداد سے اپنے سفیر کو تبدیل کرے۔

انھوں نے کہا کہ '' عراق کے بارے میں سعودی پالیسیاں ناقابل تبدل رہیں گی اور ان کا افراد سے تعلق نہیں ہے۔سعودی عرب عراق کی عرب شناخت سے دستبردار نہیں ہوگا''۔ان کا اشارہ ایران کی بغداد میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے کوششوں کی جانب تھا۔

سعودی سفیر نے ایران کا ذکر کیے بغیر کہا کہ ''عراقی دباؤ اور مخصوص ایجنڈے کو بھگت رہے ہیں جو ملک پر اپنی پالیسیاں مسلط کررہا ہے''۔انھوں نے کہا کہ یہ دباؤ فوجی مشیروں کے ذریعے عراقیوں پر دوسرے ممالک کی جانب سے مسلط کیا جارہا ہے۔

ایران کی پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی عراق میں داعش مخالف جنگ میں ایک فوجی مشیر کا کردار ادا کررہے ہیں۔انھوں نے شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ان شیعہ ملیشیاؤں کے ساتھ ان کی متعدد تصاویر بھی منظرعام پر آچکی ہیں۔

واضح رہے کہ عراق کے شیعہ سیاست دان سعودی سفیر کے ایران مخالف بیانات کے ردعمل میں انھیں ملک سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ثامر السبھان عراق میں ایران کی مداخلت کے حوالے سے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اللہ عراقیوں پر رحم فرمائے جن کا ہمسایہ ایک ایسا ملک ہے جو ان کا معاند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کی داعش مخالف جنگ میں شرکت سے شیعہ سنی مخاصمت کو بڑھاوا ملا ہے۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ''ہمارے عراقی سیاست دانوں کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات استوار ہیں لیکن میڈیا اس جانب توجہ نہیں کرتا ہے''۔انھوں نے عراق میں اپنے قتل کی سازش پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔حال ہی میں عراقی ملیشیا ابوالفضل العباس گروپ کے سربراہ اوس الخفاجی نے کہا تھا کہ ''ثامر السبھان ایک مطلوب شخص ہیں اور اگر انھیں قتل کردیا جاتا ہے تو یہ ہرکسی کے لیے ایک اعزاز ہوگا''۔

ثامرالسبھان نے جنوری 2016ء میں بغداد میں اپنی اسناد سفارت پیش کی تھی اور وہ عراق میں گذشتہ ربع صدی کے بعد پہلے سعودی سفیر تھے۔سعودی عرب نے صدام حسین کی فوجوں کی کویت پر چڑھائی کے بعد بغداد سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔