.

ترک لڑاکا طیاروں کی شمالی عراق میں کردوں کے اہداف پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں کے اہداف پر بمباری کی ہے اور پڑوسی ملک شام میں اس کی فورسز نے شامی کرد ملیشیا اور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے بتایا ہے کہ لڑاکا جیٹ نے سوموار کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق ساڑھے نو اور دس بج کر پچپن منٹ کے درمیان شمالی عراق میں ''علاحدگی پسند دہشت گرد تنظیم'' کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں تباہ کردیا ہے۔اناطولو کا اشارہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی جانب تھا۔

علاحدگی پسند مسلح جنگجو گروپ پی کے کے کو ترکی کے علاوہ یورپی یونین اور امریکا نے بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔اس کی قیادت عراق کے شمال میں واقع قندیل کے پہاڑی سلسلے میں غاروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں مقیم ہے۔

ترکی کی فضائیہ نے شام میں کرد جنگجوؤں اور داعش کے خلاف گذشتہ بدھ کے روز زمینی اور فضائی مہم کے آغاز کے بعد شمالی عراق میں پہلی مرتبہ کرد باغیوں کے اہداف پر یہ فضائی حملے کیے ہیں۔

درایں اثناء ترک وزیر خارجہ مولود جاوس اوغلو نے کرد شامی ملیشیا پر زوردیا ہے کہ وہ فوری طور دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے علاقے کی جانب لوٹ جائے۔ورنہ اس کے خلاف مزید فضائی حملے کیے جائیں گے۔

انھوں نے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) سے کہا ہے کہ وہ فوری طور امریکا سے کیے گئے وعدے اور ان کے اعلان کے مطابق دریائے فرات کے مغربی علاقے کو عبور کر جائے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انھیں فضائی حملوں میں ہدف بنایا جائے گا''۔

ادھر شام میں حزب اختلاف کے گروپوں نے اطلاع دی ہے کہ ترکی کی حمایت شامی ملیشیاؤں نے جرابلس میں مزید قصبوں اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ترک فورسز اور ان کے حامی شامی باغی دریائے فرات کے مغربی کنارے کے علاقے سے کرد ملیشیا اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی ڈیمو کریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو پسپا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ایس ڈی ایف نے اس ماہ کے اوائل میں جرابلس سے جنوب میں واقع منبج شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا کردیا تھا۔

ترکی اور امریکا نے کرد ملیشیا وائی پی جی کو دریائے فرات کے مغربی کنارے سے مشرقی کنارے کی جانب چلے جانے کا حکم دے رکھا ہے۔وائی پی جی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کے یونٹوں نے ایس ڈی ایف کے لیے مشاورتی کردار ادا کیا تھا اور یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی فورسز فرات کے مغرب میں موجود ہیں۔

ترک فوج کے خصوصی دستے گذشتہ بدھ کو ٹینکوں کے ساتھ شام کے سرحدی شہر جرابلس میں داخل ہوئے تھے اور ان کی مدد سے شامی باغیوں نے اس شہر کو داعش سے آزاد کر لیا تھا۔ترکی نے کرد جنگجوؤں اور داعش کے خلاف اس کارروائی کو فرات کی ڈھال کا نام دیا ہے اور اس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں سے ترکی کے ساتھ واقع شام کا سرحدی علاقہ پاک کرانا اور امریکا کی حمایت یافتہ شامی کرد ملیشیا کو پیش قدمی سے روکنا ہے۔