.

عید قربان کے لئے دنیا بھر سے 30 لاکھ جانور سعودی عرب درآمد

مویشیوں کا معائنہ 45 رکنی وٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے حج اور عید قربان سے بیرون ملک سے 30 لاکھ سے زاید مویشی درآمد کیے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جہاں بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مویشی منگوائے گئے ہیں وہیں ان جانوروں کی باریک بینی کے ساتھ طبی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔ جانوروں کے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے جدہ بندرگاہ پر امراض حیوانات کے 45 ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم ہمہ وقت جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔

سعودی عرب کے شعبہ امور زراعت و لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل انجینیر خالد بن ناصر الغامدی کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ پر حجاج کرام کی طرف سے قربانی کے لیے حکومت نے تین ملین قربانی کے جانور بیرون ملک سے درآمد کرنے شروع کیے ہیں۔ تمام جانور جدہ بندرگاہ پر لائے جا رہے ہیں جہاں پر ویٹرنری ماہرین پر مشتمل 45 رکنی ٹیم ان جانوروں کے طبی معائنے میں مصروف ہے۔

مکہ مکرمہ میں حیوانی ونباتاتی چھان بین کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غالب بن محمد عبدالمغنی الصاعدی نے بتایا کہ رواں موسم حج کے آغاز کے بعد اب تک قربانی کے مویشیوں کی پانچ کھیپوں کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھیپ میں پانچ ہزار جانور ہوتے ہیں۔ ایسے جانور جن میں امراض کی شرح 10 فی صد سے زاید پائی گئی انہیں قربانی کے لیے مسترد کر دیا جاتا ہے جب کہ 10 فی سے کم امراض کے خطرات والے جانوروں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الصاعدی نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں قربانی کے مویشیوں کے طبی معائنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر عملے کے 90 افراد کام کررہے ہیں۔ یہ تمام ٹیمیں مکہ کے داخلی راستوں الکعکیہ، الشرائع، قدیم الشمیسی، النواریہ اور الھدا پر تعینات ہیں جو شہر میں داخل ہونے سے قبل جانوروں کا مکمل طبی معائنہ کرتے ہیں۔ طبی معائنے کےدوران سیکڑوں جانوروں کو قربانی کے لیے نامناسب قرار دینے کے بعد انہیں شہر سے باہر بھجوایا گیا ہے۔

ڈاکٹر الصاعدی نے کہا کہ ویٹرنری ٹیم 13 ذی القعدہ سے 13 ذی الحج تک مسلسل تیس دن چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر جانوروں کی دیکھ بحال کی پابند ہے۔ 20 افراد کو مکہ مکرمہ میں ان پلیٹ فارمز پرتعینات کیا گیا ہے جہاں سے عازمین حج قربانی کے اپنے جانوروں کے ہمراہ داخل ہوتے ہیں۔ عازمین کے ہمراہ آنے والے جانوروں کا بھی طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ان کی صحت کو یقینی بنائے جانے کے بعد قربان گاہ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔