.

کربلا: عراقی شہر میں خودکش حملہ، 18 ہلاک، 26 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد کے جنوب مغربی علاقے عین التمر میں پانچ حملہ آور خودکش جیکٹوں، گرینیڈ اور رائفلوں سے لیس ہو کر حملہ آور ہوئے جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراق کی سنٹرل فرات آپریشنز کمانڈ کے سربراہ قیس خلف کا کہنا تھا کہ "جنگجو کلاشنکوف اور ہینڈ گرینیڈ سے لیس ہو کر حملہ آور ہوئے۔ ان میں سے ایک خود کو دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوگیا جب کہ باقی چار حملہ آور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔

مقامی کونسل کے رکن اور مقامی محکمہ صحت کے ایک ذریعہ نے اس واقعہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 26 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے مگر حالیہ دنون میں ہونے والے تمام خودکش دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

عین التمر کربلا شہر سے تقریبا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ علاقہ صوبہ الانبار کے نواح میں واقع ہے۔ صوبہ الانبار عراق میں شدت پسندوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

کربلا میں محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مرنے والے 18 افراد میں سے 5 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حملہ آوروں نے عین التمر کے نواحی علاقے میں عالمی وقت کے مطابق 6:30 بجے حملہ شروع کیا مگر یہ جگہ ان کا اصل نشانہ نہیں تھا۔