.

ایران کا سابق جنرل شام میں باغیوں سے لڑتے ہوئے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا ایک سابق جنرل شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا ہے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ سابق جنرل احمد غلامی منگل کے روز حلب میں ''تکفیری دہشت گردوں''( شامی باغیوں) کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں۔وہ 1980ء کی دہائی میں ایران ،عراق جنگ کے دوران پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈر رہے تھے۔

ایجنسی نے مزید کہا ہے کہ جنرل غلامی عراق اور شام میں داعش کے خلاف ''رضاکارانہ'' طور پر لڑنے کے لیے گئے تھے مگر حلب میں اس وقت شام کے باغی گروپوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی ہورہی ہے اور داعش کے جنگجو وہاں سے پسپا ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ ایران اور ایرانی میڈیا انتہا پسندوں اور شامی باغیوں کے لیے ''تکفیری '' کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

ایران شامی صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ملک ہے مگر وہ اس امر کی تردید کرتا ہے کہ اس کے پیشہ ور فوجی شام میں فعال ہیں یا وہ شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں۔اس کا بالاصرار کہنا ہے کہ اس کے کمانڈر اور جنرل خالصتاً ''فوجی مشیر'' کے طور پر کام کررہے ہیں۔البتہ وہ ایرانی اور افغان جنگجوؤں پر مشتمل شیعہ ملیشیاؤں کی عراق اور شام میں موجودگی کا اقرار کرتا ہے اور ان کی آئے دن میدان جنگ سے ہلاکتوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

ایران نے ان دونوں ملکوں میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں یا فوجی مشیروں کے کبھی حتمی اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں لیکن ایرانی میڈیا قبل ازیں یہ اطلاعات دے چکا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران کے سیکڑوں فوجی مشیر اور رضا کار لڑائی کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔