.

داعش کے ترجمان کو ہلاک کرنے کا روسی دعویٰ مذاق ہے: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے روس کے داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کو شام میں ہلاک کرنے کے دعوے کو ایک مذاق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ کے اعلیٰ منصوبہ ساز امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مارے گئے ہیں۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کے روز فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کا عدنانی کے بارے میں دعویٰ سراسر ایک مذاق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''روس شام میں جنگی مہم کے دوران جو کردار ادا کررہا ہے،یہ اس کا شاید سب سے مضحکہ خیز نمونہ ہوگا''۔ایک اور امریکی عہدے دار نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ایک پری ڈیٹر ڈرون نے ایک کار پر میزائل داغا تھا۔ابو محمد العدنانی کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ اس کار میں سوار تھے اور وہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے''۔

داعش سے وابستہ آن لائن نیوز ایجنسی اعماق نے منگل کے روز ابو محمد العدنانی کی شام کے شمالی صوبے حلب میں ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ وہ اس وقت صوبے میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کررہے تھے۔

اس سے پہلے امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ ''داعش کے ایک سینیر لیڈر کو صوبے حلب کے شہر الباب میں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے''۔

حلب میں روس کے لڑاکا طیارے بھی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور روس کی جانب سے شاید اسی تناظر میں داعش کے ترجمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر امریکی عہدے داروں نے اس کو مذاق قرار دے کر اس کی تردید کردی ہے۔