.

سعودی سفیر کے قتل کی کوشش میں ملوث افراد سے حوثیوں کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کا دورہ کرنے والے حوثی باغیوں کے وفد نے بغداد میں سعودی سفیر ثامر السبہان کے قتل کی کوشش میں ملوث بعض افراد سے بھی ملاقات کی ہے۔ وفد نے یمن میں اپنی ملیشیاؤں کے لیے سپورٹ کا مطالبہ کیا ساتھ ہی " شیعہ جیش التحریر" کی تشکیل پر بھی بات چیت کی۔

وفد کا دورہ قتل کی کوشش کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد

حوثی باغیوں کے وفد کا بغداد کا دورہ ، ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ہاتھوں بغداد میں سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کی کوشش سے متعلق تفصیلات منظرعام پر آنے کے کچھ روز بعد کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات سامنے آنے پر بغداد کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس عراقی وزیر خارجہ نے ہلاکت کی ناکام کوشش سے توجہ ہٹانے کے لیے سعودی وزارت خارجہ سے سفیر ثامر السبہان کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ یہ مطالبہ السبہان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس کو عراق نے "سفارتی نمائندگی کی حد سے متجاوز" قرار دیا تھا۔

پیر کے روز یمنی باغیوں کے وفد نے ان ملیشیاؤں کی قیادت سے ملاقات کی جن کے نام سعودی سفیر کے قتل کی کوشش سے متعلق تفصیلات میں سامنے آئے ہیں۔

عراق کا سرکاری موقف بین الاقوامی مواقف کے خلاف

عراقی وزارت خارجہ کے مطابق حوثیوں کے ایک وفد نے اپنے کئی روزہ دورے کے سلسلے میں پیر 29 اگست کو بغداد میں عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری سے ملاقات کی۔

ملاقات میں الجعفری نے ملکی امور چلانے کے لیے حوثیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت کے زیر قیادت سیاسی کونسل تشکیل دینے کے اقدام کو "صحیح اور مصلحت کے مطابق" قرار دیا۔

بین الاقوامی سطح پر حوثی باغیوں کی جانب سے "سیاسی کونسل" کی تشکیل کو یمن کے بحران کے لیے ایک بڑی پیچیدگی شمار کیا گیا۔ یمنی امن مذاکرات کی نگرانی کرنے والے 18 ممالک کے سفیروں کے گروپ نے 20 اگست کو صنعاء میں جاری اپنے بیان میں مذکورہ کونسل کی تشکیل کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

غیر معمولی استقبال

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق حوثیوں کا وفد عام ویزوں پر بغداد پہنچا تھا تاہم بغداد کے ہوائی اڈے پر کابینہ کے جنرل سکریٹریٹ کی گاڑیاں وفد کے انتظار میں تھیں اور وفد کو فوری طور پر گرین زون کے حساس ترین علاقے پہنچا دیا گیا۔

حوثیوں کے وفد کا استقبال کرنے والوں میں وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری سمیت متعدد شیعہ عراقی سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ وفد بغداد میں قصر ِ فارس مِں سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ مقیم ہے۔

غیر اعلانیہ ملاقاتیں اور بات چیت

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حوثیوں کے وفد کے پروگرام میں بغداد میں ایرانی سفیر سے ملاقات بھی شامل تھی۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے خصوصی ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق یہ ملاقات پیر کی شام ہوچکی ہے۔

ایجنڈے کے مطابق وفد تہران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کے بعض قائدین سے بھی ملاقات کرے گا۔

شیعہ جیش التحریر

معلومات کے مطابق حوثیوں کے وفد نے اپنی ملاقاتوں کے دوران یمن میں باغیوں کی سپورٹ کے لیے تیل اور اسلحے کے حوالے سے عراقی امداد کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ عراق، شام، لبنان اور یمن میں ایران کے زیر نگرانی "شیعہ جیش التحریر" کی تشکیل کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔

کچھ روز قبل ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام "سيد الشهداء" بریگیڈ کے ایک کمانڈر جنرل محمد علی فلکی نے "مشرق" ویب سائٹ کے ساتھ انٹرویو میں "شیعہ جيش التحرير" کی تشکیل سے متعلق تفصیلات کا اعلان کیا تھا تاہم ویب سائٹ نے جلد ہی اس انٹرویو کو ہٹا دیا۔