.

شام میں خونریزی ختم کرائی جائے : ایلان کردی کے والد کی دہائی

شام میں لوگ آج بھی مررہے ہیں لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کررہا ہے: انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ سال ترکی کے ساحل پر ڈوب کر جاں بحق ہونے والے تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے اپنے وطن میں خونریزی رکوانے میں ناکامی پر دنیا کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے اپنے کم سن بیٹے کی پہلی برسی کے موقع پر جرمن روزنامے بلد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میرے خاندان کی ہلاکت کے بعد سیاست دانوں نے کہا تھا کہ ایسا اب دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔ہرکسی نے بچے کی تصویر کی تشہیر کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن اب کیا ہورہا ہے؟ لوگ آج بھی مررہے ہیں لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کررہا ہے''۔

بحر متوسطہ میں کشتی کے حادثے میں اکتالیس سالہ عبداللہ کردی کی بیوی پینتیس سالہ ریہاب اور ان کا دوسرا پانچ سالہ بیٹا غالب بھی زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ تین سالہ ایلان کردی کی نعش سمندری لہروں کے ذریعے کنارے آ لگی تھی۔اس کی اوندھے مُنھ پڑی تصویر کی دنیا بھر کے میڈیا میں خوب تشہیر کی گئی تھی اور اس کو شامی مہاجرین کے بحران کی حقیقی عکاس قرار دیا گیا تھا۔

عبداللہ کردی شام کی کرد کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے جرمن اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کے بیٹے کی تصویر کی دنیا بھر میں تشہیر ایک درست چیز تھی کیونکہ ایسی چیزوں کو دکھایا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو یہ پتا چل سکے کہ کیا ہورہا ہے مگر انجام کار کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے جبکہ شام میں تباہ کاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے''۔

اپنے خاندان سے محروم ہوجانے والے عبداللہ کردی اس وقت عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک اپارٹمنٹ میں تنہا رہ رہے ہیں۔مقامی حکام نے البیش المرکہ کے پہرے دار ان کی قیام گاہ کے باہر حفاظت کے لیے تعینات کررکھے ہیں۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اپنے بیٹے کے کھلونے بھی ایک کمرے میں سجا رکھے ہیں۔انٹرویو کے دوران وہ مسلسل سگریٹ نوشی کر رہے تھے اور گذشتہ سال پیش آئے سانحے پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ:'' اب شاید میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں لیکن کس کے لیے؟''