.

شامی صدر کی نادانی کی انتہا ، سیاحوں کو تعطیلات گزارنے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاید آپ اس بات کا یقین نہ کریں کہ شام جہاں کی موروثی حکومت نے طاقت کے بل بوتے پر ملک کو تباہ کر ڈالا ، اندازا کم از کم 4.5 لاکھ سے زیادہ عوام کو ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ کو زخمی کر دیا اور زندہ رہ جانے والوں میں اکثریت بے گھر ہو کر بیرون ملک پناہ گزین بننے پر مجبور ہو گئے.. اس ملک میں اب بھی وزارت سیاحت موجود ہے۔

مذکورہ وزارت نے اس سلسلے میں انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدھ کے روز ایک ترویجی وڈیو جاری کی ہے جس میں عرب اور غیرملکی سیاحوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تعطیلات شام میں گزاریں۔

یہ وڈیو غالبا ڈرون طیارے کے ذریعے بنائی گئی ہے جو شام کے شمالی شہر طرطوس کے ساحل پر سے گزر رہا ہے۔ اس دوران ساحل پر آنے والوں اور تیراکی کرنے والوں کے مناظر فلم بند کیے گئے ہیں۔ بعض لوگ ساحل پر چھتریوں کے نیچے لیٹے نظر آ رہے ہیں۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے اندازے کے مطابق یہ پرانی وڈیو ہو سکتی ہے جو یوٹیوب پر شامی وزارت سیاحت کے پیج پر پوسٹ کی گئی۔ وزارت سیاحت کے امور شامی کابینہ کے وزیر انجینئر بشیر ریاض یازجی چلا رہے ہیں۔ ایک منٹ سے بھی کم دورانیے کی وڈیو میں ممکنہ طور پر پرانے مناظر کو دکھایا گیا ہے تاکہ ایسا معلوم ہو کہ تباہی اور بربادی کے شکار ملک میں کچھ غیرمعمولی نہیں ہو رہا۔

وڈیو کا عنوان ہے "شام سب سے دلکش رہے گا"۔ یہ ترویج اور مونٹاج کے نقطہ نظر سے بدترین پروڈکشن ہے۔ اس کی موسیقی شروع سے آخر تک بے ہنگم اور پریشان کر دینے والی ہے۔ یہ سب صرف اس بات کے اشارے کے لیے ہے کہ شام میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ جی ہاں جہاں 50 لاکھ عوام کو سونے کے لیے کوئی جگہ میسر نہیں ، کتنوں کو پیٹ بھرنے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ ایسے میں شامی حکومت طرطوس اور اللاذقیہ میں سمندر کی موجوں کی ترویج کر رہی ہے۔ غالبا یہ تاریخ میں بدترین سیاحتی ترویج کی حیثیت سے شمار ہوگی جو کہ خون ریز ہونے کے ساتھ ساتھ کم عقلی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

شامی وزارت سیاحت کی ویب سائٹ پر آخری ایونٹ کے طور پر "طرطوس سیاحتی میلہ 2016" کی ترویج کی گئی ہے۔ یہ میلہ جمعرات کے روز شروع ہو کر ہفتے کے روز تک جاری رہے گا۔ اس کا افتتاح سمندری کورنیش پر واقع تھیٹر میں ہوگا جہاں خصوصی طائفے کی جانب سے رقص بھی پیش کیا جائے گا۔

یقینا شامی وزارت سیاحت کی جاری کردہ وڈیو کم عقلی کا اظہار اور بے قصور عوام کے زخموں اور تکالیف پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔