نجف کے قبرستان میں ملیشیاؤں کے سیکڑوں ارکان کی تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ عراق اور شام میں لڑنے والی شیعہ ملیشیاؤں کے ہلاک ارکان کی حقیقی تعداد پر پردہ رکھا گیا ہے تاہم عراق میں نجف کا قبرستان ملشیاؤں کے مارے جانے والے ارکان کے جنازوں کی لمبی قطاروں کا گواہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں لائے جاتے ہیں۔

نجف میں "وادی السلام" کو عراق کا سب سے بڑا قبرستان شمار کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ گزشتہ صدی میں انیس سو اسی کی دہائی میں منظرعام پر آیا جب عراق ایران جنگ جاری تھی۔ اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ زیادہ تر جنازے شیعہ ملشیاؤں سے تعلق رکھنے والے عناصر کے ہیں۔

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزار کے پڑوس میں واقع یہ قبرستان روزانہ سیکڑوں میتوں کا استقبال کرتا ہے۔ ان میں پاپولر موبیلائزیشن کی ملیشیاؤں کے علاوہ عراق اور شام میں لڑنے والی بقیہ شیعہ ملیشیاؤں کے ہلاک ارکان شامل ہوتے ہیں۔

عراق ایران جنگ کے وقت میں بھی یہاں لائے جانے والوں کی تعداد سیکڑوں میں ہوتی تھی۔ آج بھی داعش کے ساتھ شورشوں اور دیگر معاملات کے باعث نجف کے قبرستان میں مرنے والوں کی ایک بڑی تعداد لائی جاتی ہے۔ ان میں طبعی موت پانے والوں کے علاوہ روزانہ سیکڑوں دیگر ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

محققین کے مطابق حالیہ چند برسوں میں ملیشیاؤں کے ہلاک ارکان کے جنازوں میں اضافے کے ساتھ اس قبرستان میں روزانہ کی بنیادوں پر توسیع کی جا رہی ہے۔

نجف میں "وادی السلام" قبرستان میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس قبرستان میں روزانہ کم از کم 150 سے 200 جنازے لائے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں