خواتین کے لیے داعش کے حراستی مراکز میں کیا ہوتا رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دولت اسلامی عراق وشام ’داعش‘ کے نام سے سرگرم گروپ دنیا بھر میں اپنی سفاکیت کے باعث مشہور ہے۔ انتہا پسندوں کی جانب سے مخالفین کو درناک طریقے سے سرعام موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب داعش کی ایک سابقہ جیل کے اندر رونما ہونے والے حالات نے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں۔

العربیہ کے برادر نیوز چینل 'الحدث' نے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر منبج میں داعشی جنگجوؤں نے خواتین قیدیوں کے لیے ایک عمارت کو جیل میں تبدیل کر رکھا تھا۔ حال ہی میں داعش کو اس شہر سے شکست دی گئی جس کے بعد شہر میں قائم کردہ داعشی جیل کے اندر کے احوال سامنے آئے ہیں۔ اس جیل میں خواتین کو قید کیا گیا تھا۔ جیل کے اندرونی حالات اور قیدی خواتین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قید خانہ ایک اذیتی مرکز تھا جہاں خواتین پر بدترین تشدد کیا جاتا۔ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے ساتھ ساتھ خواتین کی عصمت ریزی کی جاتی۔

قید خانے کی دیواروں پر خواتین اسیرات نے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کے مظاہر بھی تحریر کیے ہیں۔ قید خانے کی صورت حال سے لگتا ہے کہ یہاں پر پابند سلاسل خواتین کو ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق بھی میسر نہیں تھے۔

شامی اپوزیشن کی جانب سے کی گئی کارروائی میں منبج سے داعش کو شکست دی گئی تواس جیل میں قید خواتین کو رہا کیا گیا۔ رہا ہونے والی عورتوں کا کہنا ہے کہ جیل جہنم کا منظر پیش کر رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں