عراقی رجیم فلسطینی پناہ گزینوں کے فریضہ حج میں مسلسل رکاوٹ

صدام حسین کی حمایت کے الزام میں فلسطینی انتقامی سیاست کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نواز عراقی حکومت نے رواں سال بھی اپنے ہاں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کو فریضہ حج کی ادائی کے لیے حج ویزے حاصل کرنے سے روک دیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی فریضہ حج کی ادائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ عراق میں فلسطینی پناہ گزینوں کے فریضہ حج کی ادائی پرپچھلے تیرہ سال سے پابندی عاید ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں فلسطینی پناہ گزینوں کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ 13 سال سے فلسطینی پناہ گزینوں کو حج کے لیے ہونے والی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے نمائندوں نے معاملہ باربار بغداد حکومت کے سامنے اٹھایا مگر اس معاملے پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔

عراقی پارلیمنٹ کے رکن اور کردستان اسلامک الائنس کے رہ نما سلیم صالح خضر کا کہنا ہے کہ عراق میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کو انسانی اور اسلامی تقاضوں کے تحت خصوصی طورپر حج کی سہولت دی جانی چاہیے۔ مگر بغداد حکومت فلسطینی پناہ گزینوں کے ساتھ کھلی نا انصاف کررہی ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2013ء میں عراق میں امریکی یلغار کے بعد صدام حسین کی حکومت ختم ہوگئی اور اس کے نتیجے میں عراق میں ایک نئی کٹھ پتلی حکومت نے حج پالیسی تبدیل کردی تھی۔ نئی حج پالیسی میں فلسطینی پناہ گزینوں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ پین عرب روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کو عراقی حکومت اس لیے نشانہ انتقام بنا رہی ہے کیونکہ بغداد سرکار کے خیال میں فلسطینی پناہ گزین مصلوب صدر صدام حسین کے پرجوش حامی رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں