اصلاحات: مقتدیٰ الصدر کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے عام ہڑتال کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے شعلہ بیان شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے سرکاری ملازمین سے حکومت کی جانب سے ملک سے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات سے ہاتھ کھینچنے کے خلاف اتوار سے دو دن کی عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے حکومت کو اصلاحات اور بدعنوانیوں پر قابو پانے کے لیے ایک ماہ کا الٹی میٹم دے رکھا تھا۔اس کی مدت ختم ہونے کے بعد جمعہ کو ایک بیان میں انھوں کہا کہ ''اب پُرامن مظاہروں کو فعال کرنا ناگزیر ہوگیا ہے''۔

انھوں نے تمام سرکاری ملازمین پر زوردیا ہے کہ وہ اتوار اور سوموار کے روز پُرامن طور پر احتجاج کریں۔ مظاہرین عمارتوں کے سامنے کھڑے ہوکر فوری توجہ کے متقاضی امور کو اجاگر کریں۔انھوں نے مساجد ،گرجا گھروں اور عبادت کی دوسری جگہوں اور ثقافتی اداروں کے اندر بھوک ہڑتال کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامی قبل ازیں اس سال کے دوران دومرتبہ دارالحکومت بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون کی جانب دو مرتبہ مارچ کرچکے ہیں اور وہ وزیراعظم حیدرالعبادی کی کابینہ میں شامل وزراء کی بدعنوانیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانیوں میں ملوّث وزراء کو ہٹا کر ایسے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ تشکیل دیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہ ہو۔مقتدیٰ الصدر کے الاحرار بلاک کی 328 ارکان پرمشتمل عراقی پارلیمان میں 34 نشستیں ہیں۔ انھیں بغداد کے غُربت زدہ شیعہ اکثریتی علاقوں کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ حیدرالعبادی نے جب ستمبر 2014ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف جہاد کریں گے اور اصلاحات کا عمل شروع کریں گے۔

لیکن وہ گذشتہ دو سال کے دوران اپنے ان نعروں اور وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے ہیں۔اس دوران انھوں نے فوج کے بعض اعلیٰ عہدے داروں کو بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں ضرور برطرف کیا ہے یا پھر انھیں اہم مناصب سے ہٹا دیا ہے۔تاہم وہ ملک کے بااثر سیاسی گروپوں اور سیاسی شخصیات کے دباؤ کی وجہ سے اصلاحات کے عمل کو آگے نہیں بڑھا سکے ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز اس وقت ملک کے سب سے بڑے شہر موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے فیصلہ کن آپریشن کی تیاریوں میں ہیں۔ایسے میں عراقی پارلیمان نے وزیردفاع خالدالعبیدی پر اسلحے کے سودوں میں بدعنوانیوں کے الزامات پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔

بعض تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بعض سیاست دانوں کا دوسروں کے لیے اس انداز میں برطرف کیا جانا دراصل ایک سیاسی کھیل کا حصہ ہے کیونکہ سابق وزیر دفاع نے بہ ذات خود پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری سمیت بعض ساتھی سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات عاید کیے تھے۔ ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے بدعنوانیوں کے اشاریے کے مطابق عراق کا دنیا کے ایک سو اڑسٹھ ممالک میں ایک سو اکسٹھ واں نمبر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں